نکاح

چچا زاد رضاعی بہن سے کیا نکاح ہوسکتا ہے؟

فتوی نمبر :
26657
| تاریخ :
معاملات / احکام نکاح / نکاح

چچا زاد رضاعی بہن سے کیا نکاح ہوسکتا ہے؟

السلام علیکم! محترم ! میرے چچا کی بیٹی مجھ سے چھوٹے بھائی کی رضاعی بہن ہے، کیا میرا اس سے نکاح ہو سکتا ہے؟ میں نے سنا ہے کہ: میرے وہ بھائی جس کی وہ رضاعی بہن ہے اور اس سے چھوٹی بھائیوں کے ساتھ نہیں ہوسکتا۔ بڑے بھائیوں کے ساتھ ہوسکتا ہے، اس لئے کہ انہوں نے اس (لڑکی) کے بعد یا اس کے ساتھ ماں کا دودھ نہیں پیا ہوتا۔ مہر بانی کر کے راہنمائی فرمادیں۔شکریہ!

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

اگر مذکورلڑکی نے سائل کی والدہ کا دودھ پیا ہو، تو وہ سائل سمیت اس کے تمام بھائیوں کی رضاعی بہن بن گئی ہے، اب اس لڑکی کے ساتھ سائل یا کسی بھی دوسرے بھائی کا نکاح شرعا جائز نہیں ہوگا ۔ اور اگر مذکورلڑکی نے سائل کی والدہ کا دودھ نہیں پیا، بلکہ سائل کے بھائی نے اپنی چچی کا دودھ پیا ہو یا دونوں نے کسی تیسری عورت کا دودھ پیا ہو ، تو ایسی صورت میں سائل کے دودھ پینے والے بھائی کے علاوہ باقی تمام بھائی چاہے چھوٹے ہوں یا بڑے ان کا نکاح ،اس لڑکی کے ساتھ جائز ہوگا۔

مأخَذُ الفَتوی

قال الله تعالى : {حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ وَبَنَاتُكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ وَعَمَّاتُكُمْ وَخَالَاتُكُمْ وَبَنَاتُ الْأَخِ وَبَنَاتُ الْأُخْتِ وَأُمَّهَاتُكُمُ اللَّاتِي أَرْضَعْنَكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ مِنَ الرَّضَاعَةِ } [النساء: 23]
و في الفتاوى الهندية: يحرم على الرضيع أبواه من الرضاع وأصولهما وفروعهما من النسب والرضاع جميعا حتى أن المرضعة لو ولدت من هذا الرجل أو غيره قبل هذا الإرضاع أو بعده أو أرضعت رضيعا أو ولد لهذا الرجل من غير هذه المرأة قبل هذا الإرضاع أو بعده أو أرضعت امرأة من لبنه رضيعا فالكل إخوة الرضيع وأخواته اھ (1/ 343)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 26657کی تصدیق کریں
0     116
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات