مصارف زکوۃ و صدقات

مستحق شخص کے لیے حکومتی امداد وصول کرنا جائز ہے ؟

فتوی نمبر :
27060
| تاریخ :
2015-11-17
عبادات / زکوۃ و صدقات / مصارف زکوۃ و صدقات

مستحق شخص کے لیے حکومتی امداد وصول کرنا جائز ہے ؟

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ گونمنٹ کے مستحق فقراء میں مستقل بحالی پروگرام چلایا ہے پوچھنا آپ سے یہ چاہتاہوں کہ آیا میں اس رقم کا مستحق ہوں یا نہیں؟
گورنمنٹ کے کوائف یہ ہیں جس کا اپنا گھر نہ ہو کرائے کے مکان میں رہتا اور بے روزگار ہو میں شادی شدہ ہوں یہاں پر والدین کے ساتھ رہ رہاں ہوں والدین یہ کہتے ہیں کہ تم یہاں سے اپنی بیوی کے ساتھ چلے جاؤ میں اس وقت بے روزگار ہوں اور بیمار بھی ہوں اور کرائے کا مکان بندوبست اور روزگار کا بندوبست بھی مشکل ہے اور اس وقت میں سخت حالات سے دوچار ہوں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

اگر سائل کی ملکیت میں ساڑھے سات تولہ سونا یا ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کے برابر مالِ تجارت یا نقدی نہ ہو تو اس صورت میں وہ بلا شبہ مستحق زکوٰۃ ہے اور اس کا حکومت سے فنڈ لے کر اپنی ضروریات پوری کرنا جائز اور درست ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

فی الهندیة: (منها الفقیر) وهو من له ادنی شئی وهو ما دون النصاب او قدر نصاب غیر نام وهو مستغرق فی الحاجة فلا یخرجه عن الفقر مالك نصب کثیرة غیر نامیة اذ کانت مستغرقة بالحاجة کذا فتح القدیر. (۱/ ۱۸۷) واللہ اعلم!

واللہ تعالی اعلم بالصواب
اورنگزیب دوست محمد عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 27060کی تصدیق کریں
0     561
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات