کیا فرماتے ہیں علماء کرام مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ ہمارا علاقہ ’’عبد الحکیم‘‘ تحصیل کبیر والا ضلع خانیوال، ایک بہت ہی پسماندہ علاقہ ہے دینی تعلیم کیلئے یہاں کوئی قابل ذکر ادارہ نہیں ہے ہم نے علاقہ کے لوگوں کو دینی علوم سے روشناس کرنے کیلئے یہاں پر ایک مدرسہ بنانے کا ارادہ کیا ہے۔ مسجد ومدرسہ کیلئے جگہ اور اس کی تعمیر کیلئے کافی رقم درکار ہے۔
معلوم یہ کرناہے کہ مسجد ومدرسہ کی تعمیر وترقی اور طلباء واساتذہ کی ضروریات اور حوائج اصلیہ اور رہائش کی ضروریات کیلئے زکوٰۃ اور دیگر صدقات واجبہ خرچ کرسکتے ہیں یا نہیں؟
مدرسہ ومسجد کی تعمیر اور تنخواہوں میں زکوٰۃ اور صدقات واجبہ کی رقوم استعمال کرنا شرعا جائز نہیں البتہ ان رقوم پر اگر تملیکِ شرعی ہوجائے اور پھر وہ مستحق اپنے طور پر اپنی مرضی وخوشی سے ان مدّات میں خرچ کرنا چاہے تو اس کا اُسے اختیار ہے اور اس کا ثواب بھی اُسی کو ہوگا جبکہ زکوٰۃ یا دیگر صدقاتِ واجبہ کی رقوم دینے والوں کو فقط مستحق کی حاجت براری کا ثواب ہوگا۔
چنانچہ اس طرح کا حیلۂ تملیک کرنے سے زکوٰۃ بھی ادا ہوجائے گی اور مطلوبہ تعمیر وغیرہ کامقصدبھی حاصل ہوجائیگا , جبکہ وہ تمام صورتیں جن میں مستحق کو مالِ زکوٰۃ پر مالکانہ قبضہ دیا جاتاہو اس میں سے خرچ کرنا جائز ہے اور اس سے زکوٰۃ بھی ادا ہوجاتی ہے۔
فی الدر: ویشترط ان یکون الصرف تملیکا لا اباحة کما مر و لا یصرف إلی بناء مسجد ولا الی کفن میت وقضاء دینه الخ (۲/ ۳۴۴)
وفیه ایضًا: وقدمنا أن الحیلة ان یتصدق علی الفقیر ثم یامره بفعل هذه الاشیاء وقال ابن عابدین رحمه اللہ قوله ثم یامره الخ ویکون له ثواب الزکاة وللفقیر ثواب هذه القرب بحر الخ (۲/ ۳۴۵)-