کیا فرماتے ہیں علماء دین وشرع متین مسئلہ ہذا کے بارے میں کہ میں ۔۔۔۔۔اللہ کو حاضر وناضر جان کر یہ تحریر کرتاہوں کہ میرے پاس نہ سونا ہے اور نہ ہی چاندی ہے ایک ذاتی مکان تھا وہ بھی قرض میں چلا گیا اب میں نے ایک شخص کئے مبلغ ۵۸۰۰۰ روپے دینے ہیں اور وہ شخص اپنے آوارہ اور شرابی کے عادی بھائی کیلئے میری بہن کا رشہ لینا چاہتاہے جبکہ میں اس کے دوسرے بھائی کیلئے رشتہ دینے کے لیے تیار ہوں لیکن وہ شخص کہتاہے کہ یا رقم دو یا میرے بھائی کیلئے رشتہ دو یا ایسی صورت میں زکوٰۃ کی رقم لے کر میں قرض ادا کرسکتاہوں اپنی بہن کی عزت اور مستقبل محفوظ رکھ سکتاہوں اور کیا زکوٰۃ ادا کرنے والے کی زکوٰۃ ادا ہوجائے گی؟
صورتِ مسئولہ میں مذکور شخص اگر واقعتاً مستحق زکوٰۃ ہو تو اس کیلئے زکوٰۃ لینا اور اپنے قرض وغیرہ میں دینا بلا شبہ جائز اور درست ہے اور اسے زکوٰۃ دینے والے کی زکوٰۃ بھی ادا ہوجائے گی۔
قوله تعالی: ﴿انما الصدقات للفقراء﴾ الخ (التوبة)
وفی الدر: ومدیون لا یملك نصابا فاضلا عن دینه وفی الظهریة الدفع الی المدوین اولٰی منه للفقیر الخ. (۳/ ۳۴۳) واللہ اعلم!