گزارش یہ ہے کہ میں ایک بیوہ عورت ہوں میرے دو بچے ہیں ایک لڑکا اور ایک لڑکی ہے دونوں کی شادی ہوچکی ہے بچی اپنے گھر اور لڑکا شادی کے بعد اپنے سسرال رہ رہاہے کیوں کہ کبھی بیٹی کے گھر اور کبھی لڑکے کے پاس رہ رہی ہوں تقریباً پانچ سال سے دل کی مریضہ ہوں اور ابھی چند ہفتے پہلے ڈاکٹروں نے پتے کی پتھری کی بیماری کا بتایا جس کا آپریشن ہوناہے نہ میرا بیٹا اتنا مالدار اور نہ میرا داماد سرمایہ دار ،نہ میرے پاس سونا وغیرہ جس سے میں اپنا علاج کراسکوں
محترم اس صورت حال میں کیا میرے لیے زکوٰۃ لینا جائز ہے اگر جائز ہے تو اس مسئلے کو شریعت کے مطابق حل کریں۔
صورت مسئولہ میں مذکورہ خاتون اگر واقعتاً مستحق زکوٰۃ ہو تو اس صورت میں اس کے لیے زکوٰۃ لینا اور اس رقم سے اپنا علاج کرانا جائز اور درست ہے۔
وفی الهندیة: (منها الفقری) وهو من لی ادنی شئ وهو مادون النصاب أو قدر نصاب غیر نام وهو مستغرق فی الحاجة فلا یخرجه عن الفقر ملك نصب کثیرة غیر نامیة اذا کانت مستغرقة بالحاجة. (۱/ ۱۸۷)
وفی فتح القدیر: لو قضی بها دین حی او میت بامره جاز. (۲/ ۲۰۸) واللہ اعلم!