میں یہ جانا چاہتا ہوں کہ اگر لڑکے یا لڑکی کو گود لےکر پڑھا لکھا کر بڑا کیا جائے اور بعد میں اس کے نکاح کے وقت لڑکے یا لڑکی کے اصل ماں باپ کے نام کے بجائے اس کی پرورش کرنے والے کا نام لیا گیا ہو اور لڑکے یالڑ کی کی اولاد بھی ہو جائے تو کیا یہ شادی جائز ہے؟ اور وہ اولاد جو ہوئی ہے اس کا کیا حکم ہوگا؟
لڑکے یا لڑکی کو اصل والد کے بجائے کسی دوسرے کی طرف منسوب کرنا اگرچہ از روئے قرآن و سنت جائز نہیں،سخت گناہ و حرام ہے، تاہم اگر اس طرح جس بچے یا بچی کی شادی کر دی گئی ہے اگر وہ شادی کے موقع پر موجود تھا یا گواہان یقینی طور پر اسے جانتے تھے تو اُس کی شادی شرعاً جائز و درست ہو چکی ہے۔
کمافي احكام القرآن للجصاص: وقوله تعالى: {ادعوهم لآبائهم هو أقسط عند الله فإن لم تعلموا آباءهم فإخوانكم في الدين ومواليكم} فيه إباحة إطلاق اسم الأخوة وحظر إطلاق اسم الأبوة من غير جهة النسب; ولذلك قال أصحابنا فيمن قال لعبده: هو أخي: لم يعتق إذا قال: لم أرد به الأخوة من النسب; لأن ذلك يطلق في الدين، ولو قال: هو ابني عتق; لأن إطلاقه ممنوع إلا من جهة النسب. وروي عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: "من ادعى إلى غير أبيه وهو يعلم أنه غير أبيه فالجنة عليه حرام۔اھ (3/464)