ایک لڑکی کو شادی کے موقع پے سسر کی طرف سے سونے کی زیور دی جاتی ہے، اور دو سال سے وہ اس پر زکوۃ بھی دیتی ہے، کیونکہ وہ خود بھی نوکری کرتی ہے، دو سال بعد وہ چاہتی ہے کہ اس زیورات کو بیچ کر پلاٹ لے لیا جائے، تو کیا وہ زیورات کو بیچنے کا حق رکھتی ہے ؟ بقول اس کے شوہر کے وہ زیورات اس کی ملکیت نہیں ہے، کیونکہ اس لڑکی کے نام نہیں لکھی ہے، اس لئے وہ بیچنے کا حق بھی نہیں رکھتی ؟ شریعت اس کے بارے میں کیا کہتی ہے کہ بقول لڑکی کے شوہر کے ،یہ سونا اس لڑکی کے ماں باپ نے لڑکے کو دیا تھا تحفے کے طور پے، کیا اس لڑکی کا شوہر شریعت کے لحاظ سے ٹھیک کہتا ہے ؟ اگر ایسا ہے تو کیا زکوۃ بھی پھر لڑکے کو ہی دینا چاہیے ؟ سونا 3 2 تولے ہیں۔
مذکور زیورات اگر لڑکی کو حقِ مہر یا مالکانہ طور پر دیئے گئے ہوں ،اس طور پر کہ وہی ان کی زکوٰۃ بھی اداء کرتی رہی ہو تو وہ شرعاً بھی اس کی ملک ہے، اور وہ اپنی مرضی سے اس میں جو چاہے تصرف کرنے کی مجاز ہے، اور اگر محض استعمال کے لیے دیئے ہوں( جیسا کہ عام عرف میں ہوتا ہے)، تو وہ شوہر کی ملک ہیں اور ان کی زکوۃ بھی اسی کے ذمہ لازم ہوگی۔