ایک عورت نےاپنے دور کے دو رشتہ دار لڑکے اور لڑکی کو دودھ پلایا ہے، جن کی عمر میں پندرہ سال کا فرق تھا، لڑکی لڑکے سے بڑی تھی، کیا اس لڑکی کی بیٹی کی شادی اس لڑکے سے ہو سکتی ہے؟ اور اگر ہو گئی ہو تو اس کے لیے کیا حکم ہے؟
جس لڑکے اور لڑکی نے ایک عورت کی چھاتی سے دودھ پیا ہے وہ آپس میں رضاعی بہن بھائی بن چکے ہیں اور رضاعی بہن کی بیٹی رضاعی بھانجی بنتی ہے اسلئے مذکور لڑکے کا نکاح اپنی بھانجی سے ناجائز اور حرام ہوا ہے، اگر ان کا دودھ پینا شہادت شرعیہ سے ثابت ہو تو ان کے درمیان علیحدگی لازم ہے ۔
كما في بدائع الصنائع: وقد قال الله عز وجل {وأخواتكم من الرضاعة} [النساء: 23] أثبت الله تعالى الأخوة بين بنات المرضعة وبين المرضع والحرمة بينهما مطلقا من غير فصل بين أخت وأخت، وكذا بنات بناتها وبنات أبنائها وإن سفلن؛ لأنهن بنات أخ المرضع وأخته من الرضاعة، وهن يحرمن من النسب كذا من الرضاعة ۔اھ (4/ 2)