میں نے ایک سال پہلے گھر والوں کی غیر موجودگی میں نکاح کیا،دو گواہ اور مولوی کی موجودگی میں،لڑکا شیعہ فیملی سے تھا،مگر اس نے مجھے یہ بتایا تھا کہ وہ سنی ہوچکا ہے،اس کے گھر والوں کو اس بات کا نہیں پتہ تھا،جس کی وجہ سے دونوں فیملی میں ناچاقی ہوئی،ہم نے نکاح کے بارے میں 6 ماہ تک کسی سے اظہار نہیں کیا اور جب کیا تو فیملی والے نہیں مانتے،کیا یہ نکاح جائز ہے؟ اور اگر جائز ہے تو اس کو ختم کرنے کیلئے طلاق ضروری ہے؟
سوال میں مذکور لڑکا کسی سنی العقیدہ مسلمان لڑکی کا کفؤ نہیں ، اسلئے والدین کی اجازت کے بغیر کیا ہوا یہ نکاح سرے سے منعقد ہی نہیں ہوا،اور اس عقد کو ختم کرنے کیلئے طلاق کی بھی ضرورت نہیں۔
کما فی الدر المختار: (فینعقد نکاح حرة مکلفة بلا) رضا (ولی) (الیٰ قوله) (وله) أی للولی(اذا کان عصبة الاعتراض فی غیر الکفء) فيفسخه القاضي ويتجدد بتجدد النكاح (ما لم) يسكت حتى (تلد منه) لئلا يضيع الولد الخ
وفی رد المحتار: تحت (قوله في غير الكفء) أي في تزويجها نفسها من غير كفء، وكذا له الاعتراض في تزويجها نفسها بأقل من مهر مثلها اھ(3/56)۔
وفی تنقیح الحامدیة: المروی عن الحسن عن أبی حنیفة ۔رحمه اللہ تعالیٰ۔بطلان النکاح من غیر الکفء وبه أخذ کثیر من مشایخنا قال شمس الأئمة السرخسی ھذا أقرب الیٰ الاحتیاط فلیس کل ولی یحسن المرافعة الیٰ القاضی ولا کل قاض یعدل والأحوط سد باب التزوج من غیر کفء قال الامام فخر الدین والفتوی علیٰ قول الحسن فی زماننا اھ (1/21)۔