کیا فرماتے ہیں علماء کرام ومفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں اگر نماز تراویح کیلئے عورتیں مرد کے پیچھے اس صورت میں نماز تراویح پڑھیں کہ: (۱)مرد چار یا پانچ آدمیوں کو نماز تراویح پڑھائے اور عورتیں بھی اُسی امام کے پیچھے نماز تراویح پڑھیں۔ (اس طرح کہ) (۲) مرد اور عورتوں کے درمیان یا تو کوئی دیوار حائل ہو یا پردہ موجود ہو۔ (۳) اور عورتیں قرآن سننے کے لئے اپنے شوق سے آئی ہوں اور نماز تراویح کی کسی کو دعوت بھی نہ دی گئی ہو۔ (۴) اور اُن میں بوڑھی اور جوان عورتیں بھی شامل ہوں۔ (۵) اور امام اپنی فرض نماز جامع مسجد میں اداء کرنے کے بعد صرف نماز تراویح پڑھانے کیلئے آئے۔ (۶) اور امام نے ان کی نیت بھی کی ہو تو کیا امام کا اس صورت میں نماز تراویح پڑھانا اور اُن عورتوں کا اس امام کی اقتداء میں نماز تراویح پڑھنا جائز ہے یا ناجائز ہے۔ قرآن وسنت کی روشنی میں وضاحت فرمائیں۔
مذکور طریقہ سے عورتوں کا تراویح کی جماعت میں شریک ہونا اگرچہ جائز اور درست ہے مگر عورتوں کا محض جماعت میں شریک ہونے کی غرض سے گھر سے نکلنا اچھا نہیں اس سے احتراز چاہیے۔
كما فی الدرالمختار :تكره امامة الرجل لھن فی بیت لیس معھن رجل غیره ولا محرم منه كا خته او زوجته اوامته اما اذاكان معھن واحد ممن ذكر اوامھن فی المسجد یكره بحر(ج:۱ ص:۵۳۳)
والبحروكذالك یكره ان یؤم النسا فی بیت ولیس معھن رجل ولامحرم منه مثل زوجته واہلہ واخته فان كانت واحدة منھن فلایكره وكذالك اذا أمھن فی المسجد لایكره واطلاق المحرم علی من ذكر تغلیبا والا فلیس ھو محرما لزوجته وامته.( ج:۱/ ص:۳۵۲)
مستقل امامِ مسجد جو تراویح میں ختمِ قرآن بحی کرے ،اسے کچھ زائد ہدیہ دینے کی جائز صورت- داڑھی کو سیاہ رنگ لگانا
یونیکوڈ تراویح 0