تین سال پہلے میرا نکاح ہوا تھا اور رخصتی نہیں ہوئی تھی اور لڑکی اپنے والد کے ساتھ گاؤں چلی گئی تھی، پھر ابھی تک کوئی رابطہ نہیں ہوا ، اب میں نکاح کرنا چاہتا ہوں، براہ مہربانی مجھے یہ بتائیں کہ اس نکاح کی شرعی کیا حیثیت ہے؟ اور نکاح کرنے کی صورت میں اس کی کیا حیثیت ہوگی؟
سائل نے جس لڑکی سے پہلا نکاح کیا تھا اگر اس کو طلاق نہ دی ہو تو ابھی تک وہ نکاح برقرار ہے، اس لڑکی کے ساتھ دوبارہ نکاح کرنے کی ضرورت نہیں ہے، تاہم اگر سائل اسکے علاوہ کسی دوسری لڑکی سے نکاح کرنا چاہتا ہو تو دوسرا نکاح بھی کر سکتا ہے، بشرطیکہ دو بیویوں کے نان و نفقہ کی استطاعت رکھتا ہو یا سابقہ بیوی کو طلاق دیگر دوسری سے نکاح کرنا چاہتا ہو ۔
کما قال الله تعالی: {فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ مَثْنَى وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ}الآیة [النساء: 3]
و في رد المحتار: (تحت) (قوله ولا يفرق بينهما بعجزه عنها) (الى قوله) (قوله وبتضررها بغيبته) أي تضرر المرأة بعدم وصول النفقة بسبب غيبته۔اھ (3/590)