السلام علیکم ! حضرت میں بنگلہ دیش سے ہوں، مجھے یہ جاننا ہے کہ یہ تو معلوم ہے کہ تراویح میں قرآن ختم پر اجرت لینا اور دینا جائز ہے سوال یہ ہے کہ اگر میں ایسی مسجد میں تراویح پڑھتا ہوں جہاں اجرت لینا اور دینا چالو ہے، لیکن میں اجرت نہیں دیتا ہوں اس حالت میں میری تراویح ادا ہو جائے گی یا اس میں کوئی حرج ہے؟
جو حافظ تراویح پڑھانے پر اجرت لیتا ہو اس کی اقتداء میں تراویح پڑھنے کے بجائے آخری دس سورتوں سے تراویح پڑھنا چاہیے، تاہم کسی مجبوری یا لاعلمی سے اجرت لینے والے حافظ کی اقتداء میں نماز پڑھ لی تو نماز ہو جائیگی، مگر اجر و ثواب میں کمی ہوگی۔
وقال اللہ تعالیٰ: {ولا تشتروا بآياتي ثمنًا قليلًا وإيّاي فاتّقون (41)} [البقرة: 41]
وفی المشکاۃ: عن بريدة رضي الله عنه قال: قال رسول الله– صلی اللہ علیہ و سلم –: «من قرأ القرآن يتأكل به الناس جاء يوم القيامة ووجهه عظم ليس عليه لحم» . رواه البيهقي في شعب الإيمان( ص:۱۹۵)
و فی تنقیح الفتاویٰ الحامدیۃ: وقال في الهداية الأصل أنّ كلّ طاعةٍ يختصّ بها المسلم لا يجوز الاستئجار عليها عندنا لقوله - عليه الصّلاة والسّلام - «اقرءوا القرآن ولا تأكلوا به» إلخ فالاستئجار على الطّاعات مطلقًا( الی قولہ) ولا شكّ أنّ التّلاوة المجرّدة عن التّعليم من أعظم الطّاعات الّتي يطلب بها الثّواب فلا يصحّ الاستئجار عليهاالخ (۲/ ۱۳۷)۔ واللہ اعلم باالصواب
مستقل امامِ مسجد جو تراویح میں ختمِ قرآن بحی کرے ،اسے کچھ زائد ہدیہ دینے کی جائز صورت- داڑھی کو سیاہ رنگ لگانا
یونیکوڈ تراویح 0