میں ایک لڑکے کو آٹھ سال سے پسند کرتی ہوں، ہم دونوں شادی کرنا چاہتے ہیں، مگر مسئلہ یہ ہے کہ لڑکے کی والدہ نے اسے دھوکا دیا، چار ماہ پہلے گھر کے مسائل کی وجہ سے دبئی بھیج دیا اور کہا کہ وہ اس کے دبئی جانے کے بعد ہمارا رشتہ طے کردیں گی، مگر انہوں نے دھوکا دیا، اب وہ مجھ سے کہہ رہا ہے کہ وہ مجھ سے نکاح کرنا چاہتا ہے، مگر میں کیا کروں گھر والوں کے بغیر یہ نکاح کرنا مشکل ہو رہا ہے، مگر میں اسے بھی بہت چاہتی ہوں، آپ اس کا حل کوئی حل بتا دیں۔
واضح ہو کہ لڑکے اور لڑکی کا اولیاء کی اجازت کے بغیر خود سے شادی کرنا انتہائی نامناسب فعل ہے اورشریف خاندانوں میں اس قسم کے نکاح کو سخت معیوب سمجھا جاتا ہے، اس طرح کا نکاح طلاق اور خلع پر منتج ہوتا ہے، اس لئے سائلہ کو چاہیئے کہ اپنے اولیاء کو راضی کر کے شادی کا انتظام کرے، تاکہ آئندہ زندگی میں مشکلات کا سامنا کرنانہ پڑے۔
في رد المحتار: (تحت) (قوله ولاية ندب) أي يستحب للمرأة تفويض أمرها إلى وليها كي لا تنسب إلى الوقاحة بحر اھ (3/55)