نکاح

اولیاء کی اجازت کے بغیر کئے ہوئے نکاح کا حکم

فتوی نمبر :
29186
| تاریخ :
0000-00-00
معاملات / احکام نکاح / نکاح

اولیاء کی اجازت کے بغیر کئے ہوئے نکاح کا حکم

میرا سوال یہ ہے کہ اگر دو بالغ لڑکی لڑکے نے ہی ایجاب وقبول کیا ہو،جس کا علم ان کے گھر والوں کو بھی ہو،تو کیا ان کا رخصتی سے پہلے مباشرت کرنا جائز ہے؟ یا گناہ ہے؟ کیا وہ ایک دوسرے سے بات کرسکتے ہیں؟ تنہا مل سکتے ہیں؟
تنقیح: اس عقدِ کی ضرورت کیوں پیش آئی؟والدین کی موجودگی میں نکاح کیوں نہیں کیا گیا؟کس سے پوچھ کر یہ انداز اختیار کیا گیا؟ دونوں لڑکے لڑکی کے خاندان کی کیا حیثیت ہے؟ کیا دونوں خاندان آپس میں رشتے کرتے ہیں؟ لڑکا پیشے کے لحاظ سے کیا کرتا ہے؟
جواب تنقیح: ماں باپ کو رضا مند کرنے کی بے حد کوشش کی گئی،مسئلہ صرف یہ تھا کہ ایسا کیسے ہوسکتا ہے،ہمارے بڑے اپنی پسند سے شادی کریں اور لڑکا جو الیکٹریکل انجینئر کا طالبِ علم تھا،ٹیوشن پڑھا رہا تھا،نہ کوئی نشہ،نہ کوئی بری عادت،ایک معزز خاندان سے تعلق رکھتا تھا،وہ اپنے گھر میں سب سے چھوٹا تھا،اس وجہ سے بڑے دو بھائی موجود تھے،جن کا عقد نہیں ہوا،لڑکے کے گھر والوں کو یہ مسئلہ تھا کہ پہلے بڑوں کی ہوگی تو پھر اس کے لئے سوچا جائے گا،لڑکی بی ایس سی کر چکی ہے اور یہاں لڑکی کے گھر والے اس لڑکی کا رشتہ کہیں اور کررہے تھے،اس سے جو لڑکی سے کم پڑھا لکھا تھا، اس عقد کی وجہ یہ تھی , اور لڑکی لڑکا دونوں مسلمان ہیں، خاندان الگ الگ ہیں،لیکن دونوں کی حیثیت اور مقام ایک جیسا ہے،زبان بھی ایک ہی ہے،اب جب کہ دونوں نے ایجاب وقبول کرلیا اور اپنے گھر والوں کو بتایا کہ ہم پیچھے نہیں ہٹ سکتے تو پھر گھر والے مل کرحل نکالیں،منگنی کروا دیں،سب بہت خوش اور بہت مطمئن ہیں اس رشتہ سے،اب ان دونوں کے ماں باپ کو لگتا ہے کہ غلطی ان کی تھی،اگر وہ پہلے مان جاتے تو ان کے بچے یہ قدم نہ اٹھاتے،اب کسی کو کوئی مسئلہ نہیں ہے،آپ سے پوچھنا تھا اس نکاح کی حیثیت کیا ہے؟ایجاب وقبول جو شریعت کے مطابق کیا گیا گواہوں کی موجودگی میں حق مہر مقرر کرتے ہوئے،کیا اس کے بعد وہ لڑکی لڑکا تنہائی میں مل سکتے ہیں؟ بات کرسکتے ہیں؟ اگر ان میں ہمبستری ہوجائے تو یہ گناہ ہوگا؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

مذکور نکاح شرعاً منعقد ہوچکا ہے،تاہم رخصتی سے قبل لڑکا لڑکی کا تنہائی میں ملنا اور ہمبستر ہونا معزز اور شریف خاندانوں میں بہت معیوب سمجھا جاتا ہے،اس لئے اس سے احتراز چاہیے ، البتہ نکاح ہوجانے کے بعد فون وغیرہ پر بات کرنے میں کوئی حرج نہیں،اور اب سائل کے گھر والوں کو چاہیئے کہ جلد از جلد ان کی رخصتی کا انتظام کریں۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الھدایة: قال: " النكاح ينعقد بالإيجاب والقبول بلفظين يعبر بهما عن الماضي قال: " ولا ينعقد نكاح المسلمين إلا بحضور شاهدين حرين عاقلين بالغين مسلمين رجلين أو رجل وامرأتين عدولا كانوا أو غير عدول اھ(1/185)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 29186کی تصدیق کریں
0     612
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات