نکاح

لڑکی کا اولیاء کی اجازت کے بغیر نکاح کرنا

فتوی نمبر :
29189
| تاریخ :
معاملات / احکام نکاح / نکاح

لڑکی کا اولیاء کی اجازت کے بغیر نکاح کرنا

سنبل نے جنید سے محبت کی، اس کے بعد آپس میں رضا مندی سے نکاح کیا پانچ گواہوں کی موجودگی میں اور دونوں لوگوں کے نکاح نامہ اور اسٹامپ پیپر پر دستخط موجود ہیں، کیا ایسی صورت میں نکاح منعقد ہو گا یا نہیں؟
تنقیح :
لڑکی اور لڑکے کے والدین کا پیشہ کیا ہے ؟ دونوں خاندان کے افراد آپس میں نکاح کرتے ہیں یا نہیں ؟ مندرجہ بالا سوالات کا جواب میل کر دیں
جواب تنقیح:
1۔یہ رشتہ کفؤ میں ہے -
2۔ لڑکی اور لڑکے کے والدین کا پیشہ ایک ہے -
3۔دونوں ایک ہی خاندان سے ہیں، اور آپس میں نکاح کرتے ہیں

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

اگر باہمی رضامندی سے اور عاقل بالغ گواہوں کی موجودگی میں باقاعدہ ایجاب و قبول کے ساتھ نکاح ہوا ہو تو شرعاً اگرچہ یہ نکاح منعقد ہو چکا ہے، تاہم والدین اور بڑوں سے چھپ کر ان کی رضا مندی کے بغیر جو نکاح ہو اس میں خیر و برکت کم ہوتی ہے اور جلد ہی طلاق اور جدائی پر منتج ہوتا ہے، اسلئے دونوں لڑکے لڑکی کو چاہیئے کہ بڑوں سے معافی مانگ کر ان کو منانے کی کوشش کریں۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في الهداية: قال: النكاح ينعقد بالايجاب والقبول بلفظين يعبر بهما عن الماضي (الى قوله) (ولا ينعقد نكاح المسلمين الا بحضور شاهدين حرين عاقلين بالغين مسلمين رجلين او رجل وامرأتين۔اھ (1/185)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 29189کی تصدیق کریں
0     532
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات