اگر ایک عورت کے پاس طلاق کا فتوی ہو تو کیا میں اس فتویٰ کی بناء پر اس عورت سے شادی کرسکتا ہوں؟ یا نکاح کرنے کے لئے مزید دستاویزات کی ضرورت پڑے گی؟
عورت اگر یہ کہتی ہے کہ اس کو طلاق ہوچکی ہےاور عدت(جوکہ تین حیض ہے)بھی گزر چکی ہے اور نکاح کرنے والے کو عورت کی سچائی پر اعتماد بھی ہو تو ایسی عورت سے نکاح کرنا درست ہے،مزید دستاویزات کی ضرورت نہیں ہے۔
کما فی الدر المختار: وكذا لو قالت امرأته لرجل طلقني زوجي وانقضت عدتي لا بأس أن ينكحها اھ (3/529)۔
وفی البزازیة: منکوحة رجل قالت لآخر طلقنی زوجی وانقضت عدتی جاز تصدیقھا اذا وقع فی الظن صدقھا عدلة أم لا اھ (4/262)۔