نکاح

کیا کفریہ الفاظ کہنے سے واقعۃً نکاح ٹوٹ جاتا ہے؟

فتوی نمبر :
29462
| تاریخ :
2020-10-26
معاملات / احکام نکاح / نکاح

کیا کفریہ الفاظ کہنے سے واقعۃً نکاح ٹوٹ جاتا ہے؟

ایک اخبار کے مطابق معروف مذہبی اسکالر حضرت ذو الفقار احمد نقشبندی نے اپنے ایک بیان میں کہاکہ حضور اکرمﷺ نے فرمایا کہ قرب قیامت میں لوگ اپنی بیویوں کی ساتھ زنا کریں گے، ہم نے حدیث پاک پڑھی تو ہمیں سمجھ نہیں آئی، ہم نے اپنے استاد سے پوچھا کہ استاد جی! اس کا کیا مطلب ہے کہ لوگ اپنی ہی بیوی سے زنا کریں گے؟ تو انہوں نے فرمایا کہ ہاں! اس کی کئی صورتیں ہیں: ایک صورت تو اس کی یہ ہے کہ مرد یا عورت کوئی کفریہ بول بول دے اور نکاح ٹوٹ جائے اور ان کو اس کا پتہ ہی نہ ہو کہ نکاح ٹوٹ گیا ہے اور آج کل تو یہ بات عام ہے، لوگوں کو اس بات کا علم ہی نہیں، مولانا فرماتے ہیں کہ فارسی کی فقہی کتاب ’’مالا بندہ منہ‘‘ ہم مفتی صاحب سے پڑھ رہے تھے تو جب انہوں نے کلمات کفر پڑھائے تو ہماری آنکھیں کھل گئیں ،اس میں قاری ثناء اللہ پانی پتی رحمہ اللہ نے لکھاہے کہ اگر دو بندے گفتگو کر رہے ہو اورایک کہے کہ یہ تو شریعت کی بات ہے اور اگلا جواب دے کہ’’ رکھ پرے شریعت کو تو وہ آدمی کافر ہوگیا ‘‘ ہمیں چاہیے کہ ہم علما ءسے پوچھیں کہ کلمات کفر کون کون سے ہیں؟ یہ نہ ہو کہ ہم ایسے جملے بولیں اور کفر کا ارتکاب کر رہے ہوں، کئی جملے تو بہت عام ہیں، مثلا: علماء نے لکھاہے کہ کسی نے کہاکہ کہاں رہتے ہو؟ دوسرے نے کہاکہ فلاں جگہ رہتاہوں اور خدا دے پچھاڑدے خدا کے پچھاڑدے یعنی خدا کے پچھے رہتے ہو، فقد کفر تو وہ بندہ کافر ہوگیا تو ان کا علم حاصل کرنا ضروری ہے کہ کہیں ہم تو اپنی گفتگو میں کوئی ایسی بات نہیں کہہ جاتے، اگر نکاح ٹوٹ گیا تو پھر اپنے زعم میں میاں بیوی رہ رہے ہیں اور زنا کا گناہ لکھا جارہے، مسئلہ یہ ہے کہ کیا ایسا بولنے سے واقعی نکاح ٹوٹ جاتاہے اور اگر ٹوٹ جائے تو دوبارہ نکاح کرنے کی کیا صورت ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

کسی شخص کے سوال کے جواب میں یہ کہنا کہ ’’خدا دے پچھاوڑے کہ العیاذ باللہ خدا کے پیچھے رہتاہوں‘‘ چونکہ انتہائی گستاخانہ اور کفریہ کلمہ ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ کی شان عالی کے متعلق ایسے گستاخانہ کلمات کہنے سے انسان دائرہ اسلام سے خارج ہوجاتاہے اور نکاح ختم ہوکر بیوی اس پر حرام ہوجاتی ہے، اس لیے ایسے گستاخانہ کلمات کہنے والے پر لازم ہے کہ دوبارہ کلمہ پڑھ کر تجدید ایمان کرکے گواہوں کی موجودگی میں نئے حق مہر کے تقرر کے ساتھ تجدید نکاح بھی کرے اور آئندہ کیلیے ایسے گستاخانہ کلمات سے مکمل اجتناب کرے۔

مأخَذُ الفَتوی

فی خلاصة الفتاویٰ: ٳذا وصف اللہ تعالی بما لایلیق به، ٲو سخر باسم اللہ، ٲو بأمر من ٲوامرہ، ٲو ٲنکر وعدہ، ووعیدہ (ٳلی قوله)ولو قال:‘‘پاي خداي باید گرفت دریں حادثه’’ٳن اعتقد ٲن للہ تعالی رجلا ھي جارحة یکفر، وٳن ٲراد به ٲنه لا نجاة له ٳلا بالاعتصام باللہ لا یکفر اھـ (۴/۳۸۴)۔
وفي الفتاوی الهندية: ویکفر ٳذا وصف اللہ تعالی بما لایلیق به، ٲو سخر باسم من ٲسمائه، ٲو بٲمر من ٲوامرہ۔ اھـ (۲/۲۸۵)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
سلیم اللہ عطاء عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 29462کی تصدیق کریں
1     2721
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات