میرے ایک رشتہ دار ہیں، اور ان کے مالی حالات بہتر نہیں ہیں، اور آج کل ان کی نوکری بھی نہیں ہے، میں یہ معلوم کرنا چاہتا ہوں کہ انہیں صدقہ کی نیت سے دیا جاسکتا ہے؟ ان کی صحت ٹھیک ہے، اور وہ مزدور بھی ہیں، ایک اور سوال یہ ہے کہ صدقے کی رقم سے قرض دیا جاسکتا ہے کسی کو؟
اگر سائل کا مذکور رشتہ دار سید نہ ہو، اور مستحق زکوٰۃ ہو تو ا س کو صدقات واجبہ( زکوٰۃ ،صدقہ الفطر، یا جائز منت کی رقم ) اور غیر واجبہ ہر قسم کا صدقہ دینا درست ہے، ورنہ صرف صدقات غیر واجبہ ہی سے اس کا تعاون کرے، پھر واضح ہو کہ صدقہ کی یا زکوٰۃ کی رقم اگر الگ کر لی جائے تو محض الگ کرنے سے وہ رقم کسی کی ملکیت سے نہیں نکلتی بلکہ وہ مالک ہی کی ملکیت میں رہتی ہے، اور اس کو اپنے کام یا کسی کو قرض میں بھی دی جاسکتی ہے، البتہ زکوٰۃ دوسری رقم سے ادا کرنا لازم ہوگا، جبکہ نفلی صدقہ کے لیے الگ کی ہوئی رقم کو ذاتی استعمال میں لانے سے دوبارہ اتنی رقم الگ کر کے صدقہ کرنا لازم نہیں۔
کما فی ردالمحتار: تحت (قوله: وإلى من بينهما ولاد) أي بينه وبين المدفوع إليه؛ (الی قولہ) وقيد بالولاد لجوازه لبقية الأقارب كالإخوة والأعمام والأخوال الفقراء بل هم أولى؛ لأنه صلة وصدقة. وفي الظهيرية: ويبدأ في الصدقات بالأقارب، ثم الموالي ثم الجيران، الخ (2/346)۔
و فی الھندیة: ويجوز دفعها إلى من يملك أقل من النصاب، وإن كان صحيحا مكتسبا كذا في الزاهدي الخ (1/189)۔
رفاہی ادارہ "چیرٹی رائٹ آف پاکستان" میں رقمِ زکوۃ کے استعمال کی مختلف صورتوں کے احکام
یونیکوڈ مصارف زکوۃ و صدقات 1