نکاح

نکاح نامہ میں سوتیلے والد کا نام لکھوانے سے نکاح کا حکم

فتوی نمبر :
29688
| تاریخ :
معاملات / احکام نکاح / نکاح

نکاح نامہ میں سوتیلے والد کا نام لکھوانے سے نکاح کا حکم

السلام علیکم!
میرا نام حافظ محمد عامر ہے، میرا نکاح اسی سال ہوا، میرے پہلے والد کا انتقال ہو چکا تھا، میرے نکاح نامہ پر میرے دوسرے والد کی ولدیت لکھی گئی ہے، کیونکہ میری امی کی دوسری شادی ہو گئی تھی، مجھے یہ معلوم کرنا ہے کہ نکاح ہو گیا ہے یا نہیں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

اگر نکاح کے وقت سائل خود یا اس کا وکیل موجود تھا اور گواہان کی موجودگی میں سائل یا اس کے وکیل نے ایجاب و قبول کر لیا تھا تو سائل کا نکاح درست منعقد ہو چکا ہے، نکاح نامہ میں ولدیت کے خانہ میں سوتیلے والد کا نام لکھوانے کی وجہ سے سائل کے نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑا، تاہم ویسے اپنے والد کے علاوہ کسی اور کی طرف اپنی نسبت جائز نہیں، اس لئے سائل پر نکاح نامہ سمیت تمام سرکاری و غیرسرکاری کاغذات میں تصحیح کرتے ہوئے ولدیت کے خانہ میں اپنے حقیقی والد کا نام درج کرانا لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في صحيح المسلم: عن أبي ذر أنه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول ليس من رجل ادعي لغير أبيه وهو يعلمه إلا كفر ومن ادعى ما ليس له فليس منا وليتبوأ مقعده من النار۔الحدیث الخ،
وقال النووي: قولهﷺ ومن ادعى ماليس له فليس منا فقال العلماء معناه ليس على هدينا وجميل طريقتنا كما يقول الرجل لابنه لست منى۔اھ (1/ 57)
وفى مرقاة المفاتيح: والادعاء إلى غير الأب مع العلم به حرام فمن اعتقد إباحته كفر لمخالفة الإجماع، ومن لم يعتقد إباحته فمعنى (كفر): وجهان، أحدهما: أنه أشبه فعله فعل الكفار، والثاني: أنه كافر نعمة الإسلام۔اھ (6/ 477)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 29688کی تصدیق کریں
0     787
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات