اگر کوئی کسی کا دودھ شریک بھائی ہے، اور جس کا اس نے دودھ پیا، وہ اسکی مامی بھی ہے، اور وہ لوگ اس دودھ شریک بھائی کی بیٹی کا رشتہ اس عورت کے چھوٹے بیٹے کے لئے مانگتے ہیں، جس کا اس نے دودھ پیا تھا، کیا یہ رشتہ شرعاً جائز ہے ؟ کیا وہ ان کی بھتیجی نہیں ہوگی؟ کیونکہ اس کے والد نے ایسی عورت کا دودھ پیا تھا، جس کے چھوٹے بیٹے کیلئے وہ رشتہ مانگ رہے ہیں ؟
صورت مسئولہ میں دودھ پلانے والی کا بیٹا مذکورہ لڑکی کا رضاعی چچا بنتا ہے،اور رضاعی چچا بھتیجی کا عقد نکاح اسی طرح ناجائز اور حرام ہے جیسا کہ نسبتی چچا بھتیجی کا نکاح حرام ہے، لہذا مذکور زیر غور رشتہ سے احتراز لازم ہے۔
کما فی در المختار: (حرم) على المتزوج ذكرا كان أو أنثى نكاح (أصله وفروعه) علا أو نزل (وبنت أخيه وأخته وبنتها) (إلی قوله) (و) حرم (الكل) مما مر تحريمه نسبا، ومصاهرة (رضاعا) اھ (3/ 28)
وفیه أیضاً: (ولا) حل (بين الرضيعة وولد مرضعتها) أي التي أرضعتها (وولد ولدها) لأنه ولد الأخ اھ (3/ 217)