السلام علیکم!
اللہ سے امید ہے آپ بخریت ہونگے، جناب محترم ہماری خالہ زاد کزن ہے، جس کی عمر چالیس سال سے زیادہ ہے، والد انتقال کر چکے ہیں،والدہ اور بھائی شادی کی اجازت نہیں دے رہے، وہ شادی کرنا چاہتی ہیں، کیا وہ عدالت سے رجوع کر کے نکاح کر سکتی ہیں؟ کوئی شرعی عذر تو نہیں ہو گا؟ آپ کے جواب کاانتظار رہے گا۔
عاقلہ بالغہ اپنے نکاح کے معاملہ میں خود مختار ہے، لہذا وہ اگر اپنے کفؤ میں اور مہر مثل کےساتھ نکاح کرے تو شرعاً اسکی گنجائش ہے , والدہ اور بھائی اگر بلاوجہ اسے شادی سے روک رہے ہوں تو ان کا یہ عمل درست نہیں ہے۔
كما فى الدر المختار: (ولا تجبر البالغة البكر على النكاح) لانقطاع الولاية بالبلوغ۔اھ (3/58)
وفیه ايضاً: (فنفذ نكاح حرة مكلفة بلا) رضا (ولي) (وله) أي للولي (إذا كان عصبة) ولو غير محرم كابن عم في الأصح خانية، وخرج ذوو الأرحام والأم والقاضي (الاعتراض في غير الكفء) (وفی رد المحتار: تحت) (الی قوله) الأيم أحق بنفسها من وليها۔اھ (3/55)