لاہور اور باقی جگہ میں زمین فروخت ہوتی ہے فائل کی صورت میں، کیا یہ جائز ہے ؟ فائل سے مراد وہ زمین ہے جو ابھی حاصل نہیں ہوئی ۔ (۱) کوئی نقشہ نہیں ہوتا (۲) زمین کی جگہ معلوم نہیں ہوتی۔ (۳) حتی کے پورے علاقہ کا بھی علم نہیں ہوتا۔ (۲) یہ بھی معلوم نہیں کہ تعمیر کیسی ہوگی۔ (۵) یہ بھی معلوم نہیں کہ زمین مکمل طور پر کب دی جائیگی۔ (۶) یہ بھی معلوم نہیں کہ ایک کنال کی جگہ پوری ایک کنال ہوگی یا کم زیادہ، دوسرے الفاظ میں یہ ایک وعدہ ہے زمین دینے کا ۔
مذکور طریقہ کے موافق خریداری شئیِ مجہول کی خریداری ہونے کی وجہ سے جائز نہیں ، اس لیے اس سے احتراز لازم ہے ۔
البتہ اگر کسی بھی اسکیم میں پلاٹ کی نوعیت و مقدار و غیره متعین ہو اور یہ بھی معلوم ہو کہ اسکیم کون سی جگہ اور کون سے علاقہ میں اور کس سمت میں واقع ہے تو ایسی صورت میں اپنے پلاٹ کی تعیین کے بغیر بھی اُسے بذریعہ فائل بیچ سکتے ہیں ، ورنہ نہیں۔
ففی صحيح مسلم: عن عبد الله، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم «أنه نهى عن بيع حبل الحبلة» اھ (3/ 1153)
و في شرح النووي على مسلم: وهذا البيع باطل على التفسيرين أما الأول فلأنه بيع بثمن إلى أجل مجهول والأجل يأخذ قسطا من الثمن وأما الثاني فلأنه بيع معدوم ومجهول وغير مملوك للبائع وغير مقدور على تسليمه والله أعلم اھ (10/ 158)
و في الهداية شرح البداية: قال ولا بيع الطير في الهواء لأنه غير مملوك قبل الأخذ وكذا لو أرسله من يده لأنه غير مقدور التسليم ولا بيع الحمل ولا النتاج لنهي النبي عليه الصلاة والسلام عن بيع الحبل وحبل الحبلة ولأن فيه غررا اھ (3/ 43)
تصاویر والے ڈبوں اور پیکٹوں میں پیک شدہ اشیاء کا کاروبار-نسوار اور سگریٹ کا کاروبار
یونیکوڈ کاروبار 0