نکاح

نکاح کے بعد رخصتی کو مؤخر کرنا

فتوی نمبر :
31865
| تاریخ :
معاملات / احکام نکاح / نکاح

نکاح کے بعد رخصتی کو مؤخر کرنا

لڑکی والوں کے اصرار پر منگنی میں نکاح باندھ لیا، اور رخصتی ایک سال بعد ہوگی, تو اگر کوئی حرج ہے تو بتائیں اگر نہیں تو بھی شر عی طریقہ واضح فرمائیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

نکاح کے بعد رخصتی میں بلا وجہ تاخیر نہیں کرنی چاہیئے البتہ اگر رخصتی کیلئے تیاری، مہر وغیرہ دیگر امور میں کچھ وقت لگے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في صحيح البخاري: عن هشام بن عروة عن ابيه عن عائشةؓ أن النبي ﷺ تزوجها وهي بنت ست سنين و بنی بها وهى بنت تسع سنين۔الحدیث (2/ 771)
وفي الهندية: وإذا نقد الزوج المهر وطلب من القاضي أن يأمر أبا المرأة بتسليم المرأة فقال أبوها: إنها صغيرة لا تصلح للرجال ولا تطيق الجماع وقال الزوج بل هي تصلح وتطيق ينظر إن كانت ممن تخرج أخرجها وأحضرها وينظر إليها فإن صلحت للرجال أمر بدفعها إلى الزوج، وإن لم تصلح لم يأمره۔اھ (1/ 287)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 31865کی تصدیق کریں
0     882
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات