نکاح

رضاعی بھانجی سے نکاح کا حکم

فتوی نمبر :
31978
| تاریخ :
0000-00-00
معاملات / احکام نکاح / نکاح

رضاعی بھانجی سے نکاح کا حکم

فون کےذریعے معلوم ہوا ہے، ایک عورت کی دو شادیاں ہوئیں، پہلی شادی سے ایک لڑکا پیدا ہوا، اس لڑکے کے ساتھ کسی اور لڑکی نے دودھ پیا ، پھر اس کے پہلے شوہر کا انتقال ہو گیا، جب اس عورت نے دوسری شادی کی تو اس سے بھی ایک لڑکا پیدا ہوا ، اب سوال یہ ہےکہ اس لڑکی کی اولاد سے اس دوسرے لڑکے کی شادی جائز ہے ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سوال میں مذکور عورت نے جس لڑکی کو دودھ پلایا وہ اس عورت کی رضاعی بیٹی اور اس کی تمام اولاد کیلئے رضاعی بہن بن گئی، لہذا مذکور لڑکی کی بیٹیاں دوسرے نکاح سے پیدا ہونے والے لڑکے کی رضاعی بھانجیاں ہیں، اسلئے ان کے ساتھ مذکور لڑکے کا نکاح ناجائز اور حرام ہے، جس سے احتراز لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر المختار: (ولا حل بين رضيعي امرأة) لكونهما أخوين وإن اختلف الزمن والأب (ولا) حل (بين الرضيعة وولد مرضعتها) أي التي أرضعتها (وولد ولدها) لأنه ولد الأخ۔اھ (3/ 343)
وفي التاتارخانية : ویحرم على الرضيع ابواه من الرضاع واصولهما وفروعهما من النسب والرضاع جميعا اھ (3 /168)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 31978کی تصدیق کریں
0     510
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات