مصارف زکوۃ و صدقات

مالدار والدین کی نادار اولاد کو زکوۃ دینے کاحکم

فتوی نمبر :
32272
| تاریخ :
عبادات / زکوۃ و صدقات / مصارف زکوۃ و صدقات

مالدار والدین کی نادار اولاد کو زکوۃ دینے کاحکم

مفتی صاحب زکوٰۃ کے مسئلہ پہ آپ سے کچھ رہنمائی چاہیے ایک خاندان جہاں والد اور بیٹے ملکر اتنا کماتے ہیں کہ گھر کا گزر بسر ہوجاتا ہے، اور اس خاندان میں دو بیٹیاں بھی ہیں، والدین نے کچھ پیسہ جمع کیا ہوا ہے بچت کمیٹی سے پچاس ہزار یا ایک لاکھ روپے بچیوں کی شادی کے لیے ، اس صورت میں اس خاندان کو زکوٰۃ دی جاسکتی ہے یا نہیں ؟ اور کیا یہ صورت بھی اختیار کی جاسکتی ہے کہ بچیوں کے ہاتھ میں پیسہ دے دیا جائے، چونکہ مال اور جمع پونجی کی ملکیت والدین کے ہاتھ میں ہے، جزاک اللہ خیراً۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورت مسئولہ میں(ساڑھے باون تولہ چاندی کی موجودہ مالیت کے مطابق) والدین صاحب نصاب ہیں اور ان کی اولاد صاحب نصاب نہیں اس لیے اولاد کو براہ راست زکوٰۃ دینا صحیح ہے،بشرطیکہ سید اور ہاشمی نہ ہو۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الھندیة: ويجوز دفعها إلى من يملك أقل من النصاب، وإن كان صحيحا مكتسبا الخ (1/189)۔
و فی بدائع الصنائع: وأما ولد الغني فإن كان صغيرا لم يجز الدفع إليه وإن كان فقيرا لا مال له؛ لأن الولد الصغير يعد غنيا بغنى أبيه وإن كان كبيرا فقيرا يجوز؛ لأنه لا يعد غنيا بمال أبيه الخ (2/47)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
بیک سلطان جمادل عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 32272کی تصدیق کریں
0     181
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات