کیا نکاح پڑھانا امامِ محلہ کا حق ہے؟یا پھر کسی سے بھی پڑھوا سکتے ہیں؟
نکاح امامِ مسجد کے علاوہ کوئی بھی پڑھا سکتا ہے،یہ امامِ مسجد کا حق نہیں،البتہ لڑکے یا لڑکی کے اولیاء نے امامِ مسجد سے پہلے سے بات کر رکھی ہو تو پھر کسی دوسرے سے پڑھوانے میں وعدہ خلافی کا گناہ ہوگا،جس سے احتراز چاہیئے ۔
کما فی البحر الرائق: والولایة فی الفقه تنفیذ القول علیٰ الغیر شاء أو أبی وھی فی النکاح نوعان ولایة ندب واستحباب(الیٰ قوله) وتثبت الولایة بأسباب أربعة بالقرابة والملک والولاء والامامة اھ (3/109)۔
وفی الفقه الاسلامی وأدلته: یری الحنفیة: أنه یصح التوکیل بعقد الزواج من الرجل والمرأة اذا کان کل واحد منھما کامل الأھلیة أی بالغا عاقلا حراً اھ (7/22)۔