نکاح

ٹیلیفون پر نکاح کا حکم

فتوی نمبر :
32656
| تاریخ :
0000-00-00
معاملات / احکام نکاح / نکاح

ٹیلیفون پر نکاح کا حکم

ہمیں نکاحِ مسیار کا پتہ چلا،ہمیں بتایا گیا کہ یہ وقتی شادی ہے،جیسے متعہ ہے،اور یہ سنی افراد کے لئے ہےاور جائز ہے،ان معلومات کو سامنے رکھتے ہوئے ہم نے ٹیلیفون پر اسی نیت سے نکاح کیا کہ یہ وقتی نکاح ہے،جو تقریباً ڈیڑھ سال کے لئے ہے،اس کے بعد ختم ہوجائے گا،جس میں ہم نے الفاظ بھی یہی استعمال کئے(آپ ۔۔۔دختر۔۔۔کو جناب۔۔۔کے ساتھ بعوض حق مہرِ شرعی ڈیڈھ سال کیلئے نکاحِ مسیار قبول ہے؟) اب ہمیں معلوم ہوا کہ نکاحِ مسیار ایسے وقتی نہیں ہوتا،ہم آج تک کبھی نہیں ملے،ناہی کوئی ازدواجی تعلق قائم کیا،اسی پریشانی میں , نہ ہی کوئی گواہ ہے اور نہ ہی کوئی ولی کی اجازت اس میں شامل ہے،بس فون پر اس نیت سے کہ وقتی ہے،یہ الفاظ استعمال کیے اور لڑکی نے جواب میں"قبول ہے"کہا،تو کیا پھر بھی یہ نکاح ہوگیا؟ اور نیت وقتی کی تھی اور الفاظ بھی وقتی کے استعمال کیے اور اگر ہوگیا تو وقتی ہوا یا نہیں ہوا؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہوکہ شرعاً نکاح صحیح منعقد ہونے کیلئے فریقین (میاں بیوی) یا ان کے مقرر کردہ وکیل کا ایک ہی مجلس میں دو مرد یا ایک مرد اور دو عورتوں کے روبرو ایجاب وقبول کرنا ضروری ہے،جبکہ ٹیلیفون پر نکاح کرنے کی صورت میں یہ شرط نہیں پائی جاتی،لہذا مذکور نکاح میں شرعی شرائط نہ پائے جانے کی وجہ سے سرے سے نکاح منعقد ہی نہیں ہوا۔

مأخَذُ الفَتوی

کمافی الدر المختار: ولیس منه(أی من المتعة والنکاح المؤقت)مالونکحھا علیٰ أن یطلقھا بعد شھر أو نوی مکثا معھا معینة اھ(2/219)۔
وفی الفتاوی الھندیة: ویشترط العدد فلاینعقد النکاح بشاھد واحد (الیٰ قوله) سماع الشاھدین کلامھما معاً اھ (1/268)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 32656کی تصدیق کریں
0     391
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات