ایک عورت کی دو بچیاں ہیں،جن کا باپ اپنا اپنا ہے،ان دونوں سے ایک شخص نکاح کرسکتا ہے؟
ایک شخص کا بیک وقت دوماں شریک بہنوں کو اپنے نکاح میں رکھنا ناجائز اور حرام ہے،جس سے احتراز لازم ہے۔
کما فی الدر المختار: (وإن تزوجهما معا) أي الأختين أو من بمعناهما الخ
وفی رد المحتار: تحت (قوله: أو من بمعناهما) هو كل امرأتين أيتهما فرضت ذكرا لم تحل له للأخرى اھ (3/40)۔
وفی الفتاوی التاتارخانیة: وفی الحجة: وان کانت الأخوات متفرقات لایجوز الجمع بالوطیء ولکن یطما الماخت التی من قبل الأب والأخت التی من قبل الأم ویترک الأخت التی من قبل الأب والأم، لأن بین الأخت للأب وبین الأخت للأم لیست قرابة فیجوز الجمع بینھما، فلو وطیء الأخت التی ھی من قبل الأب والأم لایجوز له أن یستمتع بالآخرین مالم یخرج الأخت لأب وأم من ملکه اھ (3/5)۔