نکاح

کیادو ماں شریک بہنوں کو ایک نکاح میں جمع کرنا جائز ہے ؟

فتوی نمبر :
33568
| تاریخ :
معاملات / احکام نکاح / نکاح

کیادو ماں شریک بہنوں کو ایک نکاح میں جمع کرنا جائز ہے ؟

ایک عورت کی دو بچیاں ہیں،جن کا باپ اپنا اپنا ہے،ان دونوں سے ایک شخص نکاح کرسکتا ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

ایک شخص کا بیک وقت دوماں شریک بہنوں کو اپنے نکاح میں رکھنا ناجائز اور حرام ہے،جس سے احتراز لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر المختار: (وإن تزوجهما معا) أي الأختين أو من بمعناهما الخ
وفی رد المحتار: تحت (قوله: أو من بمعناهما) هو كل امرأتين أيتهما فرضت ذكرا لم تحل له للأخرى اھ (3/40)۔
وفی الفتاوی التاتارخانیة: وفی الحجة: وان کانت الأخوات متفرقات لایجوز الجمع بالوطیء ولکن یطما الماخت التی من قبل الأب والأخت التی من قبل الأم ویترک الأخت التی من قبل الأب والأم، لأن بین الأخت للأب وبین الأخت للأم لیست قرابة فیجوز الجمع بینھما، فلو وطیء الأخت التی ھی من قبل الأب والأم لایجوز له أن یستمتع بالآخرین مالم یخرج الأخت لأب وأم من ملکه اھ (3/5)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 33568کی تصدیق کریں
0     922
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات