ایک شخص مسجد میں دوران تراویح نماز عشاء کی نماز کے فرائض سے فارغ ہو کر لوگوں کی خدمت میں مشغول رہتا ہے، تراویح کی نماز میں شریک نہیں ہوتا، معلوم کرنے پر پتہ چلا کہ مسجد کے امام صاحب جو کہ خود مفتی ہے، نے اجازت دی ہے، کیونکہ آپ لوگوں کی خدمت میں لگے ہیں، نمازِ تراویح اگر نہ پڑھیں تو کوئی بات نہیں؟ سوال یہ ہے کہ کیا کوئی شخص نماز تراویح کو چھوڑ کر مسجد کی خدمت میں رہ سکتا ہے؟
تراویح کی نماز سنت مؤکدہ ہے، اسے بلا کسی شدید عذر کے چھوڑنا جائز نہیں، لہٰذا محض لوگوں کی خدمت کی وجہ سے مذکو رشخص کے لیے تراویح چھوڑنا جائز نہیں، تاہم اگر کوئی ایسا واقعی عذر ہو، جس کی وجہ سے تراویح پڑھنے کا اہتمام نہ ہو جائے ، تو اس کی وضاحت کر کے سوال دوبارہ ای میل کر دے، اس کے بعد ان شاء اللہ حکم شرعی سے آگاہ کیا جائےگا۔
ففی الدر المختار: (التراويح سنة) مؤكدة لمواظبة الخلفاء الراشدين (للرجال والنساء) إجماعا اھ (2/ 43) واللہ اعلم
مستقل امامِ مسجد جو تراویح میں ختمِ قرآن بحی کرے ،اسے کچھ زائد ہدیہ دینے کی جائز صورت- داڑھی کو سیاہ رنگ لگانا
یونیکوڈ تراویح 0