لڑکے اور لڑکی نے آپس میں شادی کی زنا سے بچنے کیلئے ، لیکن انہوں نے اپنے والدین کو نہیں بتایا، چھ مہینے کے بعد لڑکی نے لڑکے کو چھوڑا اور کسی اور لڑکے سے شادی کر لی، لڑکی اچھی نہیں ہے، وہ کہتی ہے کہ وہ پہلی شادی کو نہیں مانتی، ہم نے صرف جذبات کی وجہ سے نکاح کیا تھا، حالانکہ وہ شادی پوری شرائط کے ساتھ کی گئی تھی (دو گواہ، مہر کا تقرر، ایجاب اور قبول) اور مہر مؤجل تھا اور خلوت بھی ہو چکی ہے، اب لڑکی نے لڑکے کو چھوڑ دیا، میرا سوال یہ ہے کہ کیا لڑ کے پر ابھی بھی پورا مہر دینا لازم ہے جبکہ لڑکی نے اس کو چھوڑ دیا اور اس نکاح کو نہیں مانتی؟ اگر مہر دینا لازم ہے تو کیا بیوی کیلئے مہر لینا مناسب ہے ؟
لڑکےاور اور لڑکی کا اس طرح خفیہ نکاح کرنا نامناسب عمل ہے جو کہ معزز خاندانوں میں بڑا معیوب سمجھا جاتا ہے، تاہم اگر لڑکی بالغہ ہو اور نکاح بھی کفؤ میں ہوا ہو تو اولیاء کی رضامندی کے بغیر اگر چہ یہ نکاح شرعاً منعقد ہو چکا تھا، جس کے بعد شوہر نے اگر طلاق نہ دی ہو تو لڑکی کا بھاگ کر کسی اور مرد سے نکاح جائز نہیں اور یہ نکاح شرعاً منعقد بھی نہیں ہوا، مگر دونوں میاں بیوی کے درمیان اگر خلوتِ صحیحہ واقع ہوئی ہو تو شوہر پر پورا مہر دینا لازم ہو گا، اگر چہ بیوی اس کے ساتھ رہنے پر رضامند نہ ہو۔
کما فى الفتاویٰ الهندية: والمهر يتأكد بأحد معان ثلاثة: الدخول، والخلوة الصحيحة، وموت أحد الزوجين سواء كان مسمى أو مهر المثل حتى لا يسقط منه شيء بعد ذلك إلا بالإبراء۔اھ (1/303)
وفي الهداية: وينعقد نكاح الحرة العاقلة البالغة برضاها وإن لم يعقد عليها ولى بكرا كانت أو ثيبا عند أبي حنيفة وأبي يوسف رحمهما الله في ظاهر الرواية۔اھ (1/191)