نکاح

کیاشوہر کے لیے بیوی سے حقوق معاف کروانا جائز ہے ؟

فتوی نمبر :
35821
| تاریخ :
معاملات / احکام نکاح / نکاح

کیاشوہر کے لیے بیوی سے حقوق معاف کروانا جائز ہے ؟

میرا سوال یہ ہے کہ میں جن سے شادی کرنا چاہتی ہوں،ان کے اور میرے درمیان کچھ شرائط طے پائی ہیں،جن میں یہ ہے کہ میں ان سے سوائے حقِ زوجیت کے کچھ نہیں مانگوں گی،کیا یہ جائز ہے؟ کیونکہ ہم شادی کرنا چاہتے ہیں،لیکن چند مجبوریوں کی وجہ سے میری جانب سے حق معاف کیا جارہا ہے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

نکاح کے بعد شوہر پر بیوی کے کچھ حقوق لازم ہوتے ہیں،مثلاً: حقِ زوجیت،نان نفقہ اور رہائش کیلئے مکان کا انتظام کرنا وغیرہ،تاہم اگر بیوی اپنی رضامندی سے کچھ حقوق معاف کرنا چاہے تو اس کا اسے اختیار ہے،اور اس کے معاف کرنے سے شوہر بھی بریء الذمہ ہوجاتا ہے،مگر شوہر کا بیوی کو اپنے حقوق معاف کرنے پر مجبور کرنا درست نہیں،اس سے احتراز لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کمافی الدر المختار: ولذا قالوا الإبراء قبل الفرض باطل وبعده يصح مما مضى ومن شهر مستقبل الخ
وفی رد المحتار: تحت(قوله ومن شهر مستقبل) أي إذا كانت مفروضة بالأشهر، فلو بالأيام يبرأ من نفقة يوم مستقبل، وكذا لو بالسنين اھ(3/586)۔
وفی الفتاوی الھندیة: (وأما أحكامه) فحل استمتاع كل منهما بالآخر على الوجه المأذون فيه شرعا، كذا في فتح القدير وملك الحبس وهو صيرورتها ممنوعة عن الخروج والبروز ووجوب المهر والنفقة والكسوة عليه اھ(1/270)۔
وفی بدائع الصنائع: ومنھا الابراء عن کل المھر قبل الدخول وبعدہ اذا کان المھر دیناً (الیٰ قوله) یوجب الاسقاط اھ (2/295)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 35821کی تصدیق کریں
0     647
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات