کیا بریلوی عقائد رکھنے والی خاتون سے نکاح ہو جاتا ہے ؟
عام بریلوی لڑکیاں نہ تو مشرکانہ عقائد و نظریات کی حامل ہوتی ہیں اور نہ ہی ان عقائد میں متشدد ، اس لئے ان کے ساتھ ازدواجی حیثیت اختیار کرنے میں شرعاً کوئی حرج نہیں، بلکہ جائز اور درست ہے ۔ البتہ اگر کسی خاص لڑکی کے عقائد و نظریات اہل سنت و الجماعت سے ہٹ کر مشرکانہ قسم کے ہوں، تو کسی سنی العقیدہ شخص کو خاص اس لڑکی کے ساتھ نکاح سے احتراز لازم ہے ۔