نکاح

نکاح کے موقع پر بصورتِ طلاق شوہر پر جرمانہ عائد کرنے کی شرط لگانا

فتوی نمبر :
36967
| تاریخ :
معاملات / احکام نکاح / نکاح

نکاح کے موقع پر بصورتِ طلاق شوہر پر جرمانہ عائد کرنے کی شرط لگانا

میری بہن کی رشتہ کی بات چل رہی ہے، میرے والد نے لڑکے والوں سے یہ بات کی ہے کہ طلاق کی صورت میں لڑکا میری بہن کو دس لاکھ روپے بطور جرمانہ ادا کرے گا، اسکے علاوہ ہم نے کوئی اور شرط نہیں رکھی ، پوچھنا یہ ہے کہ اسلام میں ایسی شرط رکھنا جائز ہے ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورتِ مسئولہ میں مذکور شرط کے باوجود اگر گواہوں کی موجودگی میں عقدِ نکاح کر لیا گیا، تو نکاح منعقد ہو جائے گا مگر کسی وجہ سے اگر طلاق واقع ہو گئی تو شرعاً اس شرط کا پورا کرنا لازم نہیں ہوگا۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر المختار: (والنكاح لا يصح تعليقه بالشرط) كتزوجتك إن رضي أبى لم ينعقد النكاح لتعليقه بالخطر كما في العمادية وغيرها، فما في الدرر فيه نظر (ولا إضافته إلى المستقبل) كتزوجتك غدا أو بعد غد لم يصح (ولكن لا يبطل) النكاح (بالشرط الفاسد و) إنما (يبطل الشرط دونه) يعني لو عقد مع شرط فاسد لم يبطل النكاح بل الشرط۔اھ (3/ 53)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 36967کی تصدیق کریں
0     563
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات