مجھے نکاح کے مسئلہ پر معلوم کرنا تھا، میں نکاح کرنا چاہتا ہوں تاکہ میں ذہنی طور پر مطمئن رہوں، اور گناہوں سے بچ سکوں ، لیکن میرے گھر والوں کا کہنا یہ ہے کہ پہلے اچھا کماؤں گھر اپنا ہو، پھر ایسا کچھ کروں، کیونکہ ہمارے خاندان میں سب نے لیٹ شادیاں کی ہیں، کچھ اچھا کمانے کے باوجو د شادی نہیں کر رہے تو ان کی مثالیں دی جاتی ہیں، میں ابھی صرف نکاح کرنا چاہتا ہوں، رخصتی کچھ عرصہ کے بعد تو مجھے یہ بتائیں کہ اس مسئلہ میں کیا کرنا چاہیئے ؟ دوسرا پوائنٹ یہ ہے کہ میری ایک بڑی بہن بھی ہے ، اب گھر والوں کا کہنا یہ ہے کہ پہلے ان کی ہو جائے پھر کسی کی ہو گی تو اس طرح یہ بات کہنا ٹھیک ہے ؟ آپ کے جواب کا منتظر رہوں گا۔
سائل کی اگر مالی حیثیت اس قدر بہتر ہو کہ وہ بیوی کے نان نفقہ اور رہن سہن کیلئے مناسب انتظام کرنے کی استطاعت رکھتا ہو اور نکاح نہ کرنے کی صورت میں اسے گناہ میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہو تو ایسی صورت میں مناسب رشتہ ملنے کے باوجود سائل کے گھر والوں کا سائل کے نکاح میں ٹال مٹول سے کام لینا درست نہیں، بلکہ جلد از جلد شادی کا انتظام کرنا چاہیئے ۔
جبکہ بڑی بہن یا بھائی غیر شادی شدہ ہوں تو چھوٹے کی شادی کو موقوف رکھنا بھی غلط ہے، بلکہ جس کے رشتے اور نکاح کا جب انتظام ہو جائے، اس کا نکاح فوراً کرانا چاہیئے ، یہی مسنون ہے، اس لئے سائل کی بہن کی شادی سے قبل اگر سائل شادی کرے تو شرعاً اس میں کوئی قباحت نہیں۔
کما فی صحيح البخاري: عن عبد الرحمن بن يزيد قال: دخلت مع علقمة، والأسود على عبد الله فقال عبد الله: كنا مع النبي ﷺ شبابا لا نجد شيئا، فقال لنا رسول الله صلى الله عليه وسلم: «يا معشر الشباب من استطاع منکم الباءة فليتزوج، فإنه أغض للبصر وأحصن للفرج، ومن لم يستطع فعليه بالصوم فإنه له وجاء»۔الحدیث (2/758)