نکاح

نکاح کے بعد رخصتی میں تاخیر اور نوکری کے ہوتے ہوئے کاروبار کرنے کا حکم

فتوی نمبر :
37338
| تاریخ :
معاملات / احکام نکاح / نکاح

نکاح کے بعد رخصتی میں تاخیر اور نوکری کے ہوتے ہوئے کاروبار کرنے کا حکم

میرا نام معاذ احمد خان ہے اور میری عمر چھبیس سال ہے،ایک سال پہلے میری چچا زاد سے منگنی کردی گئی تھی میری خواہش کے مطابق اور چار سال بعد شادی ہونی ہے،اب میری خواہش یہ ہے کہ ہم نکاح کرلیں عید کے بعد ان شاء اللہ اور اس کے بعد اپنا کاروبار شروع کرنے کا ارادہ ہے،تاکہ اس میں نکاح کی برکات بھی شامل ہوجائیں،ابھی میں ٹیکسٹائل کی فیلڈ میں نوکری کرتا ہوں،پچاس ہزار روپے میری تنخواہ ہے اور کمپنی نے ایک کار اور موبائل بھی دیا ہوا ہے،میں چالیس ہزار روپے گھر کے خرچے کے لئے والدہ کو دیتا ہوں،رہائش گھر والوں کے ساتھ ہی ہے،کرایہ کا گھر ہے،جس میں تقریباً ستائیس سال سے رہ رہے ہیں،شادی کے لئے کمیٹی ڈالی تھی اور سارا خرچہ خود اٹھانے کا ارادہ ہے ان شاء اللہ
(1)میرا سوال یہ ہے کہ ایسا کرنا جائز ہے؟ اور اگر والدہ نہ مانے تو انہیں منایا جاسکتا ہے ؟
(2)کیا یہ سوچنا صحیح ہے کہ نکاح کے بعد کاروبار میں اور رزق میں برکت ہوگی؟
(3)کیا کاروبار کی جدوجہد کرنا صحیح ہے،اچھی نوکری ہوتے ہوئے ؟ یا یہ ناشکری میں شمار ہوگا؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

(2،1) سائل کا مقصد اگر یہ ہے کہ عید کے بعد صرف نکاح کرلیا جائے اور رخصتی مقررہ وقت پر ہو تو ایسا کرنے میں شرعاً کوئی حرج نہیں اور چونکہ قرآنِ کریم میں نکاح کے ساتھ رزق میں برکت کا وعدہ ہے،اس لئے مذکور سوچ رکھنا بھی درست ہے۔
(3)اچھی نوکری ہوتے ہوئے بھی مزید رزقِ حلال کی جدوجہد کی جاسکتی ہے،بشرطیکہ نیت صرف پیسے بڑھانا نہ ہو،بلکہ اپنے بعد اپنے زیرِ کفالت افراد کی ضروریات جائز اور بہتر طریقے سے پوری کرنا ہو۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی تفسیر القرطبی:تحت قوله تعالیٰ : (ولیستعفف الذین ) ثم لما کان أغلب الموانع علیٰ النکاح عدم المال وعد بالأغناء من فضله فیرزقه ما یتزوج به اھ (12/242)۔
وفی صحیح البخاری:عن عروۃ تزوج النبیﷺ عائشة وھی ابنة ست وبنی بھا وھی ابنة تسع ومکثت عندہ تسعاً اھ (2/775)۔
کما فی مرقاۃ المفاتیح: وعن سفیان الثوری ۔رضی اللہ عنه۔قال:کان المال فیما مضی یکرہ فأما الیوم فھو ترس المؤمن وقال لولا ھذہ الدنانیر لتمندل بنا ھؤلاء الملوک وقال من کان فی یدہ من ھذہ شیء فلیصلحه اھ
وقال المصنف تحت قوله(فلیصلحه) أو لایتلفه بل یستزدہ بنوع من التجارۃ اھ (9/144)۔
وفی صحیح البخاری: ان ھذا المال خضرۃ حلوۃ وان کل ما انبت الربیع یقتل حبطا أو یلم الا آکلة الخضرۃ تأکل حتیٰ اذا امتدت خاصرتاھا استقبلت الشمس فاجترت وثلطت وبالت ثم عادت فأکلت وان ھذا المال حلوۃ من أخذہ بحقه ووضعه فی حقه اھ
وفی حاشیته تحت قوله(انبت الربیع البقل) والغرض من ھذا ان جمع المال غیر محرم لکن الاستکثار منه ضاراً بل یکون سببا للھلاک ع ضرب فیہ مثلین أحدھما للمفرط فی جمع الدنیا والمنع من حقھا والآخر للمقتصد فی أخذھا والنفع بھا (الیٰ قوله ) وکذا جامع الدنیا من غیر حل ومانعھا من المستحق قد تعرض للھلاک بالنار وبأذی الناس وحسدہ وغیر ذالک اھ (2/951)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 37338کی تصدیق کریں
0     522
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات