نکاح

کفؤ کا مطلب اور ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کا حکم

فتوی نمبر :
37422
| تاریخ :
0000-00-00
معاملات / احکام نکاح / نکاح

کفؤ کا مطلب اور ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کا حکم

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ میں کہ اسلام میں کفؤ کا کیا مطلب ہے ؟ اور درجِ ذیل صورت کفؤ میں آتی ہے یا نہیں؟ مسلم لڑکا اور لڑ کی، سید لڑکا اور لڑ کی، مگر لڑکا لڑکی سے آٹھ سال چھوٹا ہو پڑھ رہا ہو اور شادی بھی خفیہ طور پر بغیر ولی، بغیر مولوی ، بغیر خطبہ اور بغیر نکاح نامہ کے کی جائے، بس لڑکے کے دو گواہ ہوں لڑکی کی طرف سے نہ کوئی گواہ ہوا اور نہ کوئی ولی، لڑکے کے گواہوں میں سے ایک گواہ ایجاب و قبول کرائے، اور شادی کے بعد لڑکا دوسری شادی بھی کرے اور وہ پورے اعتبار سے نارمل ہو، معاشرۃً بھی اور شرعاً بھی، اور جس سے خفیہ نکاح کیا ہو اس کو ولی کے بغیر نکاح کے بعد صرف اپنے والد کی موجودگی میں رخصت کرے، اور الگ گھر میں رکھے جس کا کسی کو پتہ نہ ہو، اور ہفتہ میں دو دن اس گھر میں رہے باقی دن نہ رہے ، تو کیا ایسی صورت کفؤ کے زمرہ میں آتی ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

کفؤ کا مطلب ہوتا ہے کہ لڑکا حسب نسب، دینداری، مالداری اور حرفت ( پیشہ ) میں لڑکی کے برابر ہو، لہذا مذکور لڑکا ان مذکورہ چار صفات میں لڑکی کے برابر ہے تو وہ لڑکی کا کفؤ ہے، اس لئے ان کا بغیر اولیاء کی رضامندی کے کیا ہوا نکاح بھی درست ہے، مگر جوان لڑکے اور لڑکی کا بغیر اولیاء کی اجازت کے آپس میں نکاح کرنا بڑی جسارت اور بے شرمی والا عمل ہے، شریف خاندان میں اس طرح کے نکاح کو سخت معیوب سمجھا جاتا ہے، تاہم اگر مذکور لڑکا لڑکی کے برابر اور کفؤ کا نہ ہو، اور نکاح بغیر اجازتِ ولی ہو تو یہ نکاح سرے سے منعقد ہی نہیں ہوا ہے ، اس طرح کے نکاح کو با قاعدہ نکاح تصور کر کے میاں بیوی کی طرح زندگی گزار نا نا جائز و حرام ہے ، جس سے احتراز اور فوری علیحدہ ہونالازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في الدر المختار: (وتعتبر) الكفاءة للزوم النكاح خلافا لمالك (نسبا (إلى قوله) (و) أما في العجم فتعتبر (حرية وإسلاما) (إلى قوله) (و) تعتبر في العرب والعجم (ديانة) (إلى قوله) (ومالا) بأن يقدر على المعجل ونفقة شهر لو غير محترف، وإلا فإن كان يكتسب كل يوم كفايتها لو تطيق الجماع (وحرفة) ۔اھ (3/90)
وفيه أیضاً: (و) الكفاءة (هي حق الولي لا حقها) فلو نكحت رجلا ولم تعلم فإذا هو عبد لا خيار لها بل للأولياء ولو زوجوها برضاها ولم يعلموا بعدم الكفاءة ثم علموا لا خيار لأحد إلا إذا شرطوا الكفاءة أو أخبرهم بها وقت العقد فزوجوها على ذلك ثم ظهر أنه غير كفء كان لهم الخيار۔اھ (3/86)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 37422کی تصدیق کریں
0     639
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات