کیا فرماتے ہیں مفتیان عظام اس مسئلہ میں کہ ایک فیملی امریکہ گئی، اور انہوں نے اپنے نام کے ساتھ احمد لکھا ہے ویزہ لینے کے لیے ، کیا ایسا کرنا درست ہے ؟ اور کوئی شخص اس طرح کی فیملی کے ساتھ رشتہ کرتا ہے تو اس کے لئے کیا حکم ہے ، اس کا نکاح ہو جائیگا؟
واضح ہو کہ احمد نبی کریم ﷺ کے ناموں میں سے ایک نام ہے ، جس کو اپنے نام کے ساتھ لگانا مستحسن عمل ہے ، اس نام کو رکھنے سے کوئی بھی مسلمان دائرہ اسلام سے خارج نہیں ہو تا ، اور ایسے لوگوں کے ساتھ عقد نکاح کرنا بھی بلاشبہ جائز ہے ، مگر کسی فیملی کا اپنے نام کے ساتھ احمد لکھوانا اگر اپنے آپ کو قادیانی ظاہر کرنے کے لئے ہو تو یہ شرعاً نا جائز ہے، اور مسلمانوں کو چاہیے کہ ایسے لوگوں کے ساتھ نکاح جیسا اہم معاملہ انجام دینے سے بھی محتاط رہیں۔
كما في التاتار خانية : يجب ان يعلم انه اذا كان في المسئلة وجوه توجب التكفير و وجه واحد يمنع التكفير فعلى المفتى ان يميل الى الوجه الذي يمنع التكفير تحسيناً للظن بالمسلم ، ثم ان كانت نية القائل الوجه الذي يمنع التكفير فهو مسلم ، و ان كانت نيته الوجه الذي يوجب التكفير لا تنفعه فتوى المفتى ويؤمر بالتوبة والرجوع عن ذلك وتجديد النكاح بينه و بين امراته - و في الظهيرية و ان لم تكن له نية حمل المفتى كلامه على وجه لا يوجب التكفير و يؤمر بالتوبة والاستغفار و استجداد النكاح اھ (۵/ ۴۵۸) والله اعلم بالصواب