نکاح

سیدہ لڑکی کا غیر سید آدمی سے نکاح کا حکم

فتوی نمبر :
37671
| تاریخ :
معاملات / احکام نکاح / نکاح

سیدہ لڑکی کا غیر سید آدمی سے نکاح کا حکم

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
میں ایک سوال پوچھنا چاہتی ہوں،جو بذاتِ خود میرے لئے پریشانی ہے،سوال یہ ہے کہ کیا ایک سید زادی کا غیر سید سے نکاح جائز ہے یا نہیں؟جب کہ وہ لڑکی 27 سال کی ہوچکی ہے،جب وہ 21سال کی تھی تب سے رشتے آرہے ہیں،لیکن کہیں نہ بن سکا، ہر بار آکر لڑکے والے جوکہ خود بھی سید ہیں کبھی لڑکی پہ اعتراض کرتےہیں تو کبھی اس کی عمر پر اور کبھی اس کے گھر پر،کبھی جہیز مانگتے ہیں،لیکن اس سب کے ساتھ ہی ایک غیر سید کا رشتہ بھی آیا ہے،نہ انہیں لڑکی کی عمر پر اعتراض ہے،نہ گھر،نہ کسی اور بات پر،وہ یہ کہتے ہیں کہ ہمیں بیٹی چاہیئے ،گھر بہت خالی ہوگیا ہے،بہت عزت کرنے والے لوگ ہیں،لیکن مسئلہ یہ ہے کہ لڑکی کے والد نہیں مان رہے کہ غیر سید میں نہیں کرنی، وہ کہتے ہیں کہ جہاں نصیب ہوا، ہوجائے گی شادی،جبکہ لڑکی کی عمر گزرتی جارہی ہے،اب تو اس کے رشتے نہیں آتے،اس کی چھوٹی بہنوں کے آتے ہیں،کیا اسلام میں جائز ہے کہ ایسی صورتِ حال میں غیر سید میں لڑکی دے دینی چاہیئے ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سید زادی کا غیر سید سے نکاح اولیاء کی رضامندی سے جائز ہے،جبکہ بلاکسی معقول عذر کے جوان لڑکی کو مناسب رشتہ ملنے کے باوجود گھر میں بٹھائے رکھنا درست نہیں،جس پر احادیثِ مبارکہ میں وعیدیں وارد ہوئی ہیں،لہذا مذکور لڑکی کے والدین پر لازم ہے کہ اپنی بیٹی کا مناسب جوڑ ملنے پر(اگرچہ وہ غیر سید ہی کیوں نہ ہو) اسے بیاہنے کی کوشش کریں! اس میں تاخیر نہ کریں!

مأخَذُ الفَتوی

کمافی مرقاۃ المفاتیح: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا خَطَبَ إِلَيْكُمْ مَنْ تَرْضَوْنَ دِينَهُ وَخُلُقَهُ فَزَوِّجُوهُ إِنْ لَا تَفْعَلُوهُ تَكُنْ فِتَنَةٌ فِي الْأَرْضِ وَفَسَادٌ عَرِيضٌ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
تحت ھذا الحدیث: (إِنْ لَا تَفْعَلُوهُ) أَيْ: لَا تُزَوِّجُوهُ (تَكُنْ) أَيْ: تَقَعُ ( «فِتْنَةٌ فِي الْأَرْضِ وَفَسَادٌ عَرِيضٌ» ) أَيْ: ذُو عَرْضٍ أَيْ كَثِيرٍ، لِأَنَّكُمْ إِنْ لَمْ تُزَوِّجُوهَا إِلَّا مِنْ ذِي مَالٍ أَوْ جَاهٍ رُبَّمَا يَبْقَى أَكْثَرُ نِسَائِكُمْ بِلَا أَزْوَاجٍ وَأَكْثَرُ رِجَالِكُمْ بِلَا نِسَاءٍ، فَيَكْثُرُ الِافْتِتَانُ بِالزِّنَا، وَرُبَّمَا يَلْحَقُ الْأَوْلِيَاءَ عَارٌ فَتَهِيجُ الْفِتَنُ وَالْفَسَادُ، وَيَتَرَتَّبُ عَلَيْهِ قَطْعُ النَّسَبِ وَقِلَّةُ الصَّلَاحِ وَالْعِفَّةِ. قَالَ الطِّيبِيُّ - رَحِمَهُ اللَّهُ -: " وَفِي الْحَدِيثِ دَلِيلٌ لِمَالِكٍ فَإِنَّهُ يَقُولُ: لَا يُرَاعَى فِي الْكَفَاءَةِ إِلَّا الدِّينَ وَحْدَهُ، وَمَذْهَبُ الْجُمْهُورِ أَنَّهُ يُرَاعَى أَرْبَعَةُ أَشْيَاءَ: الدِّينُ وَالْحُرِّيَّةُ وَالنَّسَبُ وَالصَّنْعَةُ، فَلَا تُزَوَّجُ الْمُسْلِمَةُ مِنْ كَافِرٍ، وَلَا الصَّالِحَةُ مِنْ فَاسِقٍ، وَلَا الْحُرَّةُ مَنْ عَبْدٍ، وَلَا الْمَشْهُورَةُ النَّسَبِ مِنَ الْخَامِلِ، وَلَا بِنْتَ تَاجِرٍ أَوْ مَنْ لَهُ حِرْفَةٌ طَيِّبَةٌ مِمَّنْ لَهُ حِرْفَةٌ خَبِيثَةٌ أَوْ مَكْرُوهَةٌ، فَإِنْ رَضِيَتِ الْمَرْأَةُ أَوْ وَلَيُّهَا بِغَيْرِ كُفْؤٍ صَحَّ النِّكَاحُ. (رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ) اھ (5/2047)۔
و فی الدر المختار: (الكفاءة معتبرة) في ابتداء النكاح (الیٰ قوله)بل للأولياء ولو زوجوها برضاها ولم يعلموا بعدم الكفاءة ثم علموا لا خيار لأحد اھ(3/85)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 37671کی تصدیق کریں
0     647
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات