آج کی سائنس کا یہ ماننا ہے کہ کزن سے شادی کرنے سے بیماری پھیلتی ہے، یعنی بچوں میں منتقل ہوتی ہے، شریعت اس کے متعلق کیا حکم دیتی ہے ؟ کیا اس وجہ سے کزن سے شادی نہیں کر سکتے کہ اس سے بیماری اولاد میں منتقل ہو جاتی ہے؟
کزنوں کا آپس میں نکاح کر نا شرعاً جائز ہے، اس میں حرج نہیں، چنانچہ خود نبی کریم ﷺ نے اپنی پھوپھی زاد بہن حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ تعالی عنہا سے نکاح کیا، اور آپ ﷺ نے اپنے چازاد بھائی حضرت علی رضی اللہ عنہ سے اپنی بیٹی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا نکاح کرایا، البتہ کہیں کسی جوڑے میں طبی اعتبار سے موافقت نہ ہو اور اندیشہ بیماری کا ہو تو وہاں احتیاط پر عمل کرتے ہوئے کزن سے شادی نہ کرنا بھی درست ہے، مگر یہ قاعدہ کلیہ بنانا درست نہیں۔
قال الله تعالى: {وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ مَثْنَى وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً} [النساء: 3]
وفي الجامع لاحكام القرآن للقرطبي: والمحصنات من النساء إلا ما ملكت أيمانكم كتاب الله عليكم وأحل لكم ما وراء ذلكم أن تبتغوا بأموالكم محصنين غير مسافحين (الى قوله) أحللت لكم ما وراء ما ذكرنا في الكتاب، وما وراء ما أكملت به البيان على لسان محمد عليه السلام ۔اھ (5/124)
وفى مشكوة المصابيح: وعن أبي هريرةؓ قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " تنكح المرأة لأربع : لمالها ولحسبها ولجمالها ولدينها فاظفر بذات الدين تربت يداك"۔الحدیث (2/267)