ایک یتیم بچی جس کے دو بھائی کماتے ہیں ، اس کی شادی پر زکوٰۃ کے پیسوں سے اس کے لیے سامان خریدا جاسکتا ہے؟ جیسے کہ بیڈ اور ڈریسنگ ٹیبل ، جو ضرورت کی چیزیں ہیں ،
مذکور بچی کی ذاتی ملکیت میں اگر نصاب (ساڑھے باون تولہ چاندی کی ملکیت کے بقدر سونا، چاندی، نقد رقم یا ضروریات اصلیہ سے زائد دیگر سامان نہ ہو، اور اس بچی کا تعلق سید خاندان سے بھی نہ ہو، تو اس کے لیے مذکور اشیاء خرید کر اسے مالک بنانےسے زکوٰۃ ادا ہوجائے گی، ورنہ نہیں ۔
رفاہی ادارہ "چیرٹی رائٹ آف پاکستان" میں رقمِ زکوۃ کے استعمال کی مختلف صورتوں کے احکام
یونیکوڈ مصارف زکوۃ و صدقات 1