مصارف زکوۃ و صدقات

زکوٰۃ کے مستحق کا اندازہ کیسے لگایا جائے؟

فتوی نمبر :
37978
| تاریخ :
2019-08-04
عبادات / زکوۃ و صدقات / مصارف زکوۃ و صدقات

زکوٰۃ کے مستحق کا اندازہ کیسے لگایا جائے؟

زکوٰۃ کے مستحق کا اندازہ کیسے لگایا جائے، اگر کسی کے پاس ’’ساٹھ‘‘ لاکھ روپے تک کے دو مکانات ہوں، اور آسائش کا ہر سامان دستیاب ہو، مگر فی الحال اس کے پاس ملازمت نہ ہو یا آمدن کم ہو تو کیا اس کو زکوٰۃ دینا درست ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہوکہ زکوٰۃ کا مستحق شرعاً وہ شخص کہلاتا ہے جس کے پاس ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کی مالیت کے بقدر، نقدی، مال تجارت اور ضرورت سے زائد سامان نہ ہو اور وہ سید بھی نہ ہو، لہٰذا سوال میں مذکور شخص کے پاس اگر دونوں مکانات میں سے ایک رہائش کی ضرورت سے زائد ہو تو اس کیلئے زکوٰۃ لینا جائز نہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

ولا یجوز دفع الزکوٰۃ إلی من یملک نصابا من أی مال کان، ویجوز دفعھا إلی من یملک أقل من ذلک۔ اھـ (ص٩٩) واللہ تعالیٰ اعلم

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد ابراہیم خلیل الطوخی عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 37978کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات