میرے تین سوال ہیں جن کا جواب قرآن و سنت کی روشنی میں جلد چاہیئے جزاک اللہ ۔
1۔ شادی کے بعد اگر بیوی کا پتہ چلے کہ وہ ماضی میں بد کاری کر چکی ہو تو کیا ایسی عورت کو بیوی رکھا جا سکتا ہے ؟
2۔ سوال یہ ہےکہ طلاق دینے کا حق شوہر رکھتا ہے ؟
3۔ تیسر اسوال یہ ہےکہ نکاح کے بعد رخصتی سے قبل بھی اگر یہی بیوی زنا کر چکی ہو ، جبکہ بیوی کا کہنا ہے کہ یہ نکاح کے بعد کا زنا بلیک میلنگ سے ہوا، اس کی مرضی کے خلاف تھا، اور وہ اللہ سے سچی توبہ کر چکی ہے ، شادی کے بعد یہ عورت کبھی گناہ کی مرتکب نہیں پائی گئی، تین بچوں کی ماں ہے ،تو نکاح کے بعد رخصتی سے قبل والے زنا سے نکاح پر کیا اثر پڑا؟
1/3۔ سائل کا بیان اگر واقعہ درست اور مبنی بر حقیقت ہو، اس میں کسی طرح کی غلط بیانی سے کام نہ لیا گیا ہو ، اس طور پر کہ سائل کی بیوی سے شادی سے قبل یا بعد میں سوال میں مذکور گناہ صادر ہو چکا ہو، اور اب وہ اس سے باز آگئی ہو، اور آئندہ کیلئے بصدقِ دل توبہ کر چکی ہو، جبکہ سائل کو بھی اس کی تو بہ پر اعتبار ہو تو اس کو آئندہ بھی بیوی بنا کر رکھنا بلا شبہ جائز اور درست ہے، جبکہ اس سے نکاح پربھی کوئی اثر نہیں پڑا، بلکہ دونوں اب بھی میاں بیوی کی طرح زندگی بسر کر سکتے ہیں۔
2۔ شوہر نے اگر نکاح کے وقت یا اس کے بعد خود کو حاصل شدہ طلاق دینے کا حق بیوی کے سپرد نہ کیا ہو، تو طلاق کا حق فقط شوہر کو حاصل ہو گا، اور وہ جب چاہے اس حق کو استعمال کر سکتا ہے ۔
کما وفي المصنف لابن أبي شيبة: عن ابن عباس رضی اللہ عنه قال: الطلاق بالرجال، والعدة بالنساء اھ (5/ 83)
وفى سنن ابن ماجة: صعد رسول الله ﷺ المنبر، فقال: يا ايها الناس! ما بال احدكم يزوج عبده امته ثم يريد أن يفرق بينهما، انما الطلاق من اخذ بالساق۔اھ (151)
وفی الدر المختار: (و) صح نكاح (الموطوءة بملك) يمين ولا يستبرئها زوجها بل سيدها وجوبا على الصحيح ذخيرة (أو) الموطوءة (بزنى) أي جاز نكاح من رآها تزني، وله وطؤها بلا استبراء، وأما قوله تعالى {والزانية لا ينكحها إلا زان} [النور: 3]- فمنسوخ بآية - {فانكحوا ما طاب لكم من النساء} [النساء: 3] وفي آخر حظر المجتبى لا يجب على الزوج تطليق الفاجرة ولا عليها تسريح الفاجر إلا إذا خافا أن لا يقيما حدود الله فلا بأس أن يتفرقا اھ
وفي رد المحتار تحت: (قوله: فما في الوهبانية إلخ) (إلی قوله) قال في البحر: لو تزوج بامرأة الغير عالما بذلك ودخل بها لا تجب العدة عليها حتى لا يحرم على الزوج وطؤها وبه يفتى لأنه زنى والمزني بها لا تحرم على زوجها اھ (3/ 49)
وفي رد المحتار: تحت (قوله ومن محاسنه التخلص به من المكاره) أي الدينية والدنيوية بحر: أي كأن عجز عن إقامة حقوق الزوجة، أو كان لا يشتهيها. قال في الفتح: ومنها أي من محاسنه جعله بيد الرجال دون النساء لاختصاصهن بنقصان العقل وغلبة الهوى ونقصان الدين۔اھ (3 /229)