نکاح

بانجھ لڑکی سے نکاح کرنے کا حکم

فتوی نمبر :
38350
| تاریخ :
معاملات / احکام نکاح / نکاح

بانجھ لڑکی سے نکاح کرنے کا حکم

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ میں کہ ایک لڑکی ہے جس کو طلاق ہو چکی ہے، اور وجہ یہ پتا چلی ہے کہ وہ لڑ کی ماں نہیں بن سکتی، ڈاکٹرنے کہا ہے ان کو کہ کہیں رشتہ کرو تو یہ بات پہلے ہی بتادینا، میں نے اس کی خوبصورتی کی وجہ سے اس سے رشتہ کر لیا ہے ، مجھے اب احساس ہوا ہے کہ میں اپنی نسل کشی کر رہا ہوں ، کیا میں اس رشتہ سے انکار کر سکتا ہوں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

مذکور لڑ کی سے نکاح کرنا نسل کشی کے زمرے میں نہیں آتا، البتہ سائل نے جس لڑکی سے لا علمی میں رشتہ طے کیا ہے، اگر وہ واقعۃً ماں بننے کے قابل نہ ہو، اور سائل کو اولاد کی ضرورت ہو، اور اس عورت کے ہوتے ہوئے دوسری شادی کرنا بھی مشکل ہو تو ایسی صورت میں اس رشتہ سےمعذرت کرنا درست ہے، ور نہ اس کو برقرار رکھنا چاہیئے۔

مأخَذُ الفَتوی

كما قال اللہ تعالى: {وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ مَثْنَى وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ}۔الآیة [النساء: 3]
وقال ایضاً: {لِلَّهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ يَهَبُ لِمَنْ يَشَاءُ إِنَاثًا وَيَهَبُ لِمَنْ يَشَاءُ الذُّكُورَ}}۔الآیة [الشورى: 49]
وفی فتاوىٰ ابن باز: س: الأخ م. س. ع، من مملكة البحرين المالكية، يقول: سماحة الشيخ إنني شاب أريد الزواج من امرأة عظيم عاقر غير منجبة للأطفال؛ لأنني لا أريد الذرية والنسل. فهل هذا يجوز شرعًا، حتى ولو كنت ميسور الحال؟ أفيدوني ووجهوني، ج: لقد دلت سنة رسول الله عليه الصلاة والسلام أنه يشرع للمؤمن أن يلتمس الزوجة الودود الولود؛ لأن الرسول عليه السلام قال: «تزوجوا الولود الودود، فإني مكاثر بكم الأمم يوم القيامة (2) (الى قوله) ونكاح العقيم لا شيء فيه ولا بأس به لا حرج في ذلك، لكن نكاح الولود الودود أفضل وأولى، وإذا جمعت بين المرأتين نكحت ودودا ولودا، ونكحت عقيقا وجمعت بين الأمرين فلا بأس، هذا إليك۔اھ (20/33)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 38350کی تصدیق کریں
0     478
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات