میں ایک سنی مسلمان ہوں، اور ایک شیعہ لڑکی سے شادی کرنا چاہتا ہوں، جس کا سنیوں کی طرح ہی عقیدہ ہے، وہ حضرت محمد ﷺ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں کچھ بھی برا بھلا نہیں کہتی، وہ حضرت محمد ﷺ کو خدا کا آخری نبی ماننے کا ایمان رکھتی ہے، اور کسی بھی صحابیؓ کی توہین پر یقین نہیں کرتی ، کیا اس کے ساتھ نکاح جائز ہے ؟ اگر نہیں تو مہربانی کر کے قرآن اور حدیث سے حوالے دیجئے، حالانکہ قرآن اہل کتاب سے شادی کی اجازت دیتا ہے۔
سائل نے مذکور لڑکی کے بارے میں یہ نہیں لکھا کہ وہ شیعوں کے کونسے فرقے سے تعلق رکھتی ہے، تاہم مذکور لڑکی اگر فرقہ اثنا عشریہ سے تعلق نہ رکھتی ہو اور نہ ہی صریح مخالفِ قرآن کوئی کفریہ عقیدہ رکھتی ہو، مثلاً حضرت علی رضی اللہ عنہ کی الوہیت کی قائل نہ ہو ، اور نہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر لگائی گئی تہت کو درست مانتی ہو ، اور حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی صحابیت کی بھی منکر نہ ہو ، اور حضرت جبرائیل علیہ السلام کے وحی لانے میں غلطی کی قائل نہ ہو ، اور قرآن کریم میں تحریف کی بھی قائل نہ ہو وغیرہ تو ایسی شیعہ لڑکی سے کسی بھی سنی لڑکے کا نکاح کرنا اگر چہ جائز اور درست ہے، مگر بہتر یہ ہے کہ ایسی عورت سے نکاح کے بجائے کسی ایسی صحیح العقیدہ سنی لڑکی سے نکاح کیا جائے جس کے عقیدے میں کوئی شبہ نہ ہو، تاکہ آنےوالی نسلوں پر غلط اثر نہ پڑے۔
كما في رد المحتار: تحت قوله ( وفي النهر إلخ) (إلى قوله) وبهذا ظهر أن الرافضي إن كان ممن يعتقد الألوهية في علي، أو أن جبريل غلط في الوحي، أو كان ينكر صحبة الصديق، أو يقذف السيدة الصديقة فهو كافر لمخالفته القواطع المعلومة من الدين بالضرورة، بخلاف ما إذا كان يفضل عليا أو يسب الصحابة فإنه مبتدع لا كافر اھ (3/ 46)
وفي الفتاوى البزازية: (على هامش الهندية) وإكفار الروافض في قولهم برجعة الأموات الى الدنيا وبنسخ الأرواح وانتقال روح الالٰه إلى الأئمة وان الأئمة آلهة وفي قولهم بخروج امام ناطق بالحق وانقطاع الأمر والنهي إلى أن يخرج وبقولهم إن جبرئيل عليه السلام غلط فى الوحى الى محمد ﷺ دون على كرم الله وجهه اھ (6 /318)