نکاح

دو بہنوں کو نکاح میں جمع کرنے والے سے میل جول رکھنا کیسا ہے؟

فتوی نمبر :
38466
| تاریخ :
معاملات / احکام نکاح / نکاح

دو بہنوں کو نکاح میں جمع کرنے والے سے میل جول رکھنا کیسا ہے؟

السلام علیکم! میرے ایک چچا ہیں ان کے اپنی سالی کے ساتھ ناجائز تعلقات تھے، پھر انہوں نے اپنی بیوی کو طلاق دی تھی اور اب انہوں نے اس بيوی اور اسی سالی دونوں کو اکٹھا رکھا ہوا ہے، اور ان دونوں بہنوں کی ماں ایک تھی باپ دونوں کے الگ الگ تھے، یہ بتا دیجیے کہ ایسے رشتے داروں سے ملنا جلنا اورتعلقات رکھنا جائز ہے ؟ مہربانی فرما کے تفصیلی جواب دیجیےاس بارے میں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ بیوی کے نکاح میں ہوتے ہوئے اس کی بہن سے ناجائز تعلق رکھنا یا اس سے نکاح کرنا انتہائی قبیح اور گھناؤنا فعل ہونے کے ساتھ ساتھ شرعا نا جائز و حرام ہے، لہذا اگر سائلہ کے چچا نے واقعۃً اپنی سالی سے ناجائز تعلقات رکھے ہوں، یا ایک بہن کے نکاح میں ہوتے ہوئے دوسری بہن سے نکاح کر لیا ہو ،تو اس سے سائلہ کا چچا سخت گنہگار ہوا ہے ، جس سے انہیں احتراز لازم ہے۔
سائلہ کے چچا پر لازم ہے کہ وہ اپنے اس قبیح فعل پر ندامت کے ساتھ تو بہ واستغفار کر کے مکمل طور پر اس سے باز آجائے، اور اپنی اس سالی سے علیحدگی اختیار کرے، تاہم جب تک اس گناہ سے توبہ کر کے باز نہ آئے اس وقت تک سائلہ کے چچاسے میل جول رکھنا بھی عزیز رشتہ داروں کیلئے درست نہیں، اپنے گناہ سے باز نہ آنے کی صورت میں اہل اثر اور ذمہ دار حضرات پر یہ بھی لازم ہے کہ ایسے مرد و عورت کے خلاف قانونی کاروائی کریں، تاکہ دوسروں کے لئے عبرت ہو۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی أحکام القرآن للجصاص: (تحت) قوله تعالى وأن تجمعوا بين الأختين إلا ما قدسلف قال أبو بكر قد اقتضى ذلك تحريم الجمع بين الأختين في سائر الوجوه لعموم اللفظ والجمع على وجوه منها أن يعقد عليهما جميعا معا فلا يصح نكاح واحدة منهما لأنه جامع بينهما وليست إحداهما بأولى يجوز نكاحها من الأخرى ولا يجوز تصحيح نكاحهما مع تحريم الله تعالى الجمع بينهما وغير جائز تخيير الزوج في أن يختار أيتهما شاء من قبل أن العقدة وقعت فاسدة مثل النكاح في العدة أو هي تحت زوج فلا يصح أبدا ومن الجمع أن يتزوج أحدهما ثم يتزوج الأخرى بعدها فلا يصح نكاح الثانية لأن الجمع بها حصل وعقدها وقع منهيا عنه وعقد الأولى وقع مباحا فيفرق بينه وبين الثانية۔اھ (3/ 73)
وفیه أیضاً: وقوله تعالى وتعاونوا على البر والتقوى يقتضي ظاهره إيجاب التعاون على كل ما كان تعالى لأن البر هو طاعات الله وقوله تعالى ولا تعاونوا على الإثم والعدوان نهي عن معاونة غيرنا على معاصي الله تعالى۔اھ (3 /296)
وفی صحيح مسلم: عن طارق بن شهاب - وهذا حديث أبي بكر - قال: أول من بدأ بالخطبة يوم العيد قبل الصلاة مروان. فقام إليه رجل، فقال: الصلاة قبل الخطبة، فقال: قد ترك ما هنالك، فقال أبو سعيد: أما هذا فقد قضى ما عليه سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «من رأى منكم منكرا فليغيره بيده، فإن لم يستطع فبلسانه، فإن لم يستطع فبقلبه، وذلك أضعف الإيمان۔الحدیث (1 /69)
وفى مشكاة المصابيح: وعن الضحاك بن فيروز الديلمي عن أبيه قال: قلت: يا رسول الله إني أسلمت وتحتي أختان قال: «اختر أيتها شئت» . رواه الترمذي وأبو داود وابن ماجه۔اھ (2/ 948)
وفی الفتاوى الهندية: (وأما الجمع بين ذوات الأرحام) فإنه لا يجمع بين أختين بنكاح ولا بوطء بملك يمين سواء كانتا أختين من النسب أو من الرضاع هكذا في السراج الوهاج. والأصل أن كل امرأتين لو صورنا إحداهما من أي جانب ذكرا؛ لم يجز النكاح بينهما برضاع أو نسب لم يجز الجمع بينهما هكذا في المحيط۔اھ (1/ 277)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 38466کی تصدیق کریں
0     477
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات