نکاح

دادی کا دودھ پینے کے بعد

فتوی نمبر :
39121
| تاریخ :
معاملات / احکام نکاح / نکاح

دادی کا دودھ پینے کے بعد

دادی کا دودھ پینے کے فوراً بعد الٹی کرنے سے ایک دن کی بچی کا رضاعی رشتہ ثابت ہو جاتا ہے کیا؟ اس دادی کے پوتے کے ساتھ شادی کرنا چاہتی ہوں، میں نے ان کی چھوٹی بیٹی کے ساتھ دودھ پی لیا تھا، اور فوراً الٹی بھی کی تھی، کیا ان کے سب سے بڑے بیٹے کے ساتھ نکاح کرنا جائز ہے ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

دادی کا دودھ پینے کے بعد اگر " الٹی " ہوگئی ہو، تب بھی حرمت رضاعت ثابت ہو چکی ہے، لہذا سائلہ کا اپنے رضاعی بھتیجے کے ساتھ نکاح شرعاً جائز نہیں، اس سے احتراز لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في صحيح مسلم للنيسابوري: 3652 - حدثنا قتيبة بن سعيد حدثنا ليث ح وحدثنا محمد بن رمح أخبرنا الليث عن يزيد بن أبى حبيب عن عراك عن عروة عن عائشة أنها أخبرته أن عمها من الرضاعة - يسمى أفلح - استأذن عليها فحجبته فأخبرت رسول الله -صلى الله عليه وسلم- فقال لها « لا تحتجبى منه فإنه يحرم من الرضاعة ما يحرم من النسب ». (4/ 164)
و في الدر المختار: (ولا حل بين رضيعي امرأة) لكونهما أخوين وإن اختلف الزمن والأب (ولا) حل (بين الرضيعة وولد مرضعتها) أي التي أرضعتها (وولد ولدها) لأنه ولد الأخ اھ (3/ 217)۔
وفيه ايضاً : (ويثبت به) ولو بين الحربيين بزازية (وإن قل) إن علم وصوله لجوفه من فمه أو أنفه لا غير اھ (3/ 212) ۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
جنید الرحمن سکھروی عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 39121کی تصدیق کریں
0     372
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات