میں ایک چالیس سال کی عورت ہوں، اور خود مختار ہوں، میں نکاح کرنا چاہتی ہوں، اس کی عمر چھبیس سال ہے، اور وہ شادی شدہ ہے، میں فی الحال اس نکاح کا اعلان نہیں کرنا چاہتی، کچھ مسائل ہیں، نکاح کا مقصد ایک شرعی اور جائز تعلق کو یقینی بنانا ہے، میرے لئے کیا حکم ہے ؟ جواب دے کر رہنمائی فرمائیں۔
سائلہ کیلئے اگر چہ مذکور لڑکے کے ساتھ نکاح کرنا جائز اور درست ہے ، تاہم خفیہ نکاح کے متعلق احادیث مبارکہ میں ممانعت وارد ہوئی ہے ، اس لئے نکاح کو چھپانے سے اجتناب کرنا چاہیئے ۔
كما في بدائع الصنائع: قول مالك أن النكاح إنما يمتاز عن السفاح بالإعلان فإن الزنا يكون سرا فيجب أن يكون النكاح علانية وقد روي عن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - أنه نهى عن نكاح السر والنهي عن السر يكون أمرا بالإعلان؛ لأن النهي عن الشيء أمر بضده، وروي عنه - صلى الله عليه وسلم - أنه قال: «أعلنوا النكاح ولو بالدف۔اھ (2/252)