نکاح

اولیاء کی رضامندی کے بغیر چھپ کر نکاح کرنا

فتوی نمبر :
39532
| تاریخ :
معاملات / احکام نکاح / نکاح

اولیاء کی رضامندی کے بغیر چھپ کر نکاح کرنا

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ! میں ایک لڑکی سے محبت کرتا ہوں،اس کےگھر والے اس کی شادی تین سال بعد کرنا چاہتے ہیں،لیکن کریں گے اس کی مرضی سے ہی،تو ہم اب نکاح کرنا چاہتے ہیں،لیکن اس کو خفیہ رکھنا چاہتے ہیں،تاکہ ہم گناہ سے بچ سکیں اور وقت آنے پر گھر والوں کی مرضی سے شادی کرلیں،شرعی نکاح کی کیا شرائط ہیں،اور طریقہ کیا ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائل جس لڑکی کو چاہتا ہے،اگر اس کے اولیاء راضی ہوں تو ان کی اجازت سے اعلانیہ نکاح کرنا چاہیے،اولیاء کی اجازت کے بغیر چھپ کر نکاح کرنے میں کئی ایک مفاسد ہیں،اگر غیر کفوء میں ایسا نکاح ہو تو وہ نکاح سرے سے ہی منعقد نہیں ہوتا،اس لئے سائل کو چاہیے کہ لڑکی کے اولیاء کو راضی کرکے اس کے ساتھ نکاح کرنے کا اہتمام کرے۔

مأخَذُ الفَتوی

کمافی رد المحتار: تحت (قوله: عقد) العقد مجموع إيجاب أحد المتكلمين مع قبول الآخر أو كلام الواحد القائم مقامهما أعني متولي الطرفين بحر اھ(3/3)۔
وفی الدر المختار: (ويكون واجبا عند التوقان) فإن تيقن الزنا إلا به فرض نهاية وهذا إن ملك المهر والنفقة، وإلا فلا إثم بتركه بدائع (الیٰ قوله) ويندب إعلانه وتقديم خطبة وكونه في مسجد يوم جمعة بعاقد رشيد وشهود عدول اھ(3/6)۔
وفیه أیضاً: (و) شرط (حضور) شاهدين (حرين) أو حر وحرتين (مكلفين سامعين قولهما معا) اھ(3/22)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 39532کی تصدیق کریں
0     403
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات