نکاح

کیا طلاقِ بائن کے بعد عورت اپنے خاوند سے نکاح کرنے کی پابند ہے؟

فتوی نمبر :
39710
| تاریخ :
معاملات / احکام نکاح / نکاح

کیا طلاقِ بائن کے بعد عورت اپنے خاوند سے نکاح کرنے کی پابند ہے؟

ایک شخص نے کسی گھریلو مجبوری کے تحت اپنی بیوی کو ایک طلاقِ دے دی تھی , عدت گزرنے کے بعد خاوند دوبارہ نکاح کرنا چاہتاہے مگر بیوی دوبارہ نکاح نہیں کرنا چاہتی لیکن وہ بچی کاخرچہ اور پہلے والا حق مہر اور عدت کے دوران نان نفقہ کا مطالبہ کر رہی ہے ,کیا خاوند حق مہر , بچی کا خرچہ اور عدت کے دوران کا خرچہ دینے کاپابند ہے یا نہیں ؟ از روئے شرع رہنمائی فرمائیں شکریہ ۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورتِ مسئولہ میں طلاق کی عدت گزرنے کے بعد مطلقہ عورت اپنی مرضی سے کسی بھی جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہے، اس پرسابقہ شوہر سے نکاح کرنا لازم نہیں۔ تاہم اگر مذ کور شخص نے ابھی تک حق مہرا دانہ کیا ہو اور عورت نے معاف بھی نہ کیا ہو، تواب طے شدہ مہر ادا کر ناشوہر پر لازم ہے۔ عدت کےگزرنے کے بعد عدت کا نفقہ شوہر پر لازم نہیں، جس کا مطالبہ عورت نہیں کر سکتی۔جبکہ مذکوربچی کے بالغ ہونے تک (جس کی کم از کم مدت نو سال ہے ) اس کی پرورش کی زیادہ حق دار اس کی ماں ہے، بشر طیکہ اس دوران بچی کی ماں بچی کے کسی غیر ذی رحم محرم سے شادی نہ کرے یادہ اس حق سے دستبر دارنہ ہوجائے اس دوران بچی کی پرورش پرآنے والےتمام اخراجات بچی کے والد کے ذمہ ہونگے۔ بچی کے بالغ ہونے کے بعد والد بچی کو اپنی تحویل میں لینا چاہے تو لے سکتا ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کمافی الدرالمختار: (والنفقة لا تصير دينا إلا بالقضاء أو الرضا) أي اصطلاحهما على قدر معين أصنافا أو دراهم الخ:(3/594)-
وفی ردالمحتار: (قوله والنفقة لا تصير دينا إلخ) أي إذا لم ينفق عليها بأن غاب عنها أو كان حاضرا فامتنع فلا يطالب بها بل تسقط بمضي المدة. اھ(3/594)-
وفیہ ایضاً: والمهر يتأكد بأحد معان ثلاثة: الدخول، والخلوة الصحيحة، وموت أحد الزوجين سواء كان مسمى أو مهر المثل حتى لا يسقط منه شيء بعد ذلك إلا بالإبراء من صاحب الحق، كذا في البدائع اھ(1/303)-
وفیہ ایضاً: أحق الناس بحضانة الصغير حال قيام النكاح أو بعد الفرقة الأم إلا أن تكون مرتدة أو فاجرة غير مأمونة كذا في الكافي.(الی قوله) وإنما يبطل حق الحضانة لهؤلاء النسوة بالتزوج إذا تزوجن بأجنبي، فإن تزوجن بذي رحم محرم من الصغير كالجدة إذا كان زوجها جدا لصغير أو الأم إذا تزوجت بعم الصغير لا يبطل حقها كذا في فتاوى قاضي خان. اھ(1/541)-
وفیہ ایضاً: والأم والجدة أحق بالغلام حتى يستغني وقدر بسبع سنين وقال القدوري حتى يأكل وحده ويشرب وحده ويستنجي وحده وقدره أبو بكر الرازي بتسع سنين والفتوى على الأول والأم والجدة أحق بالجارية حتى تحيض وفي نوادر هشام عن محمد - رحمه الله تعالى - إذا بلغت حد الشهوة فالأب أحق وهذا صحيح هكذا في التبيين.اھ(1/542)-
وفیہ ایضاً: نفقة الأولاد الصغار على الأب لا يشاركه فيها أحد كذا في الجوهرة النيرةاھ(1/560)-

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 39710کی تصدیق کریں
0     661
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات