نکاح

بھتیجی کا اپنے چچا سے شادی پر اصرار کرنے کا حکم

فتوی نمبر :
39842
| تاریخ :
معاملات / احکام نکاح / نکاح

بھتیجی کا اپنے چچا سے شادی پر اصرار کرنے کا حکم

حضرت اسی میں یعنی 39660 والے مسئلے میں ایک اور پہلو بھی آرہا ہے، میرے دوست کی بھتیجی کا کہنا ہے کہ وہ اپنے چچا کے ساتھ پیار کرتی ہے ، اس کے بنا کچھ سو جتاہی نہیں ،وہ خود کشی کی کوشش بھی کر چکی ہے ، اور وہ میرے دوست کو بول رہی ہے کہ آپ کہیں گئے یا میری شادی آپ کے ساتھ نہ ہوئی تو میں خود کشی کرلوں گی، اب بتائیں اس کا حل، کوئی وظیفہ ، ورد۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ چچا سے شادی کرنا اپنے باپ سے شادی کے مترادف ہے جو قطعاًنا جائز اور حرام ہے،لہذا مذکور بچی پر لازم ہے کہ اپنے اس گناہ کبیرہ پر مشتمل ارادے سے باز آئے ،ا گر اس کے باوجود اللہ کے قطعی احکام کو پامال کر کے اپنی خواہش پوری کرنا چاہتی ہو، توقطعاً اس کی بات نہ سنی جائے، اگر چہ خود کشی کر کے حرام کی موت مر جائے، اور خود اس چچا کو بھی اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرنے اور اپنے کیے پر بصدق دل گڑ گڑا کر توبہ و استغفار کی شدید ضرورت ہے اور اس بھتیجی سے دور رہنے کی بھی پوری کوشش کرے۔

مأخَذُ الفَتوی

كما قال الله تعالى: {حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ وَبَنَاتُكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ وَعَمَّاتُكُمْ وَخَالَاتُكُمْ وَبَنَاتُ الْأَخِ وَبَنَاتُ الْأُخْتِ وَأُمَّهَاتُكُمُ اللَّاتِي أَرْضَعْنَكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ مِنَ الرَّضَاعَةِ وَأُمَّهَاتُ نِسَائِكُمْ وَرَبَائِبُكُمُ اللَّاتِي فِي حُجُورِكُمْ مِنْ نِسَائِكُمُ اللَّاتِي دَخَلْتُمْ بِهِنَّ فَإِنْ لَمْ تَكُونُوا دَخَلْتُمْ بِهِنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ وَحَلَائِلُ أَبْنَائِكُمُ الَّذِينَ مِنْ أَصْلَابِكُمْ وَأَنْ تَجْمَعُوا بَيْنَ الْأُخْتَيْنِ إِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ إِنَّ اللَّهَ كَانَ غَفُورًا رَحِيمًا}الآیة [النساء: 23]
وفي مشكاة المصابيح: عن ابن عباس قال من النسب سبع ومن الصهر سبع ثم قرأ حرمت عليكم أمهاتكم الآية رواه البخاري۔الحدیث (1/275)
وفى الهداية: قال: ولا ببنته لما تلونا ولا ببنت ولده وإن سفلت للاجماع ولا باخته ولا ببنات أخته ولا ببنات أخيه ولا بعمته ولا بخالته۔اھ (2/357)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 39842کی تصدیق کریں
0     734
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات